تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 368

صحیحہ ان کے عقائد کو بھی باطل قرار دیتی اور کہتی کہ ایک خدا کو چھوڑ کر لات اور منات اور عزیٰ کی پرستش کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتی۔غرض آپ یہودیوں کے عقیدہ کا بھی انکار کرتے تھے۔عیسائیت کے عقیدہ کا بھی انکار کرتے تھے اور مشرکین کے عقیدہ کا بھی انکار کرتے تھے۔یہودیت آپ کے سامنے پیش ہوتی تو آپ کی فطرت کہتی کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس خدا کو مان لوں جو یہود کے سوا اور کسی کو اپنا پیارا بنانے کے لئے تیار نہیں۔عیسائیت آپ کے سامنے پیش ہوتی تو آپ کی فطرت اس کا انکار کرتی اور کہتی وہ مذہب کس طرح سچا تسلیم کیا جاسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بیٹے کا محتاج قرار دیتا ہے۔مشرکین مکہ کے خیالات آپ کے سامنے پیش ہوتے تو آپ کی فطرت ان کو ناقابل تسلیم قرار دے دیتی اور کہتی کہ لات اور منات اور عزیٰ کو قابل پرستش نہیں سمجھا جاسکتا۔غرض آپ کسی شرک کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔آپ چاروں طرف سے ایسے لوگوں میں گھرے ہونے کے باوجود جو مشرکانہ خیالات میں ملوث تھے اپنی فطرت صحیحہ کی بناء پر اس خدا کو مانتے تھے جو ایک ہے جو قادر اور قیوم ہے۔جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔جو نہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اس کا بیٹا۔جو خالق الکل ہے۔جو دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے سے پاک ہے اور جو اپنے کلام کے لئے کسی خاص گروہ کو مخصوص نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر ایسے فرد کو اپنے قرب میں جگہ عطا کرتا ہے جو اس کی محبت کا متلاشی ہوتا ہے۔پس فرمایا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔جا اور دنیا میں اپنے رب کے نام کا اعلان کر یعنی کفار کے ارباب نہیں بلکہ تیرا رب یعنی تو نے جس رب کو سمجھا ہے وہی سچا رب ہے اور اسی کے نام سے برکات ملتی ہیں تو دنیا میں اس کا بار بار اعلان کر اور لوگوں کو اس رب کی طرف بلا جس کو تو تسلیم کرتا ہے۔اس طرح پہلے الہام میں ہی اللہ تعالیٰ نے شرک کا ردّ کردیا اور بتادیا کہ گو اور لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا عقیدہ ہر قسم کے مشرکانہ خیالات سے منزہ ہو صرف وہ خدا جس کی حقیقت کو تو نے سمجھا ہے جس پر غار حرا کی دن رات کی عبادت میں تجھے یقین حاصل ہوا ہے وہی دنیا کا حقیقی رب ہے اور ہم تجھے اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ تو دنیا کے سامنے ’’اپنے ربّ‘‘ کا اعلان کر اور لوگوں کو بتا کہ جس طرح میں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو سمجھا ہے مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ وہی درست ہے باقی تمام اعتقادات باطل اور الوہیت کی شان سے بہت بعید ہیں۔غرض رَبِّكَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتقاد کی درستی کے متعلق الٰہی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسیحی جو یہ کہتے ہیں کہ عیسٰیؑ خدا کا بیٹا ہے بالکل غلط ہے۔تونے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے متعلق سمجھا ہے وہ ٹھیک ہے۔اسی طرح مشرکین مکہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لات اور منات اور عزیٰ بھی اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔صحیح عقیدہ وہی ہے جو تو نے سمجھا ہے یا مثلاً یہود جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف یہود سے