تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 345
ڈال کرعالم سمجھے جاسکتے ہیں تو تُو تمام روحانی، اخلاقی، اقتصادی، قضائی، سیاسی، عائلی علوم کے متعلق ان کے ماہرین سے زیادہ روشنی ڈال کر مجنون کیونکر سمجھا جائے گا۔آخر مجنون کہنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔اگر تو کام وہ کررہا ہے جو بڑے بڑے عالموں نے بھی نہیں کیا تو تجھے مجنون کس طرح کہا جاسکتا ہے اور لوگوں کی کیسی حماقت ہے کہ وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ عقل اور جنون میں اور علم اور جہالت میں بُعد المشرقین ہے۔جب دنیا میں تو علوم کے وہ خزانے تقسیم کررہا ہے جو بڑے بڑے عالموں کے واہمہ میں بھی کبھی نہیں آئے تو بہرحال اسے یہی کہنا پڑے گا کہ تو بڑا عالم ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ تومجنون ہے یا تیرے دماغ میں فتور واقعہ ہوگیا ہے۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُوْنَ۔مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ اے لوگو آج تک قلم اور دوات سے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور اس کے مجنون نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ جب دنیا میں علم الاخلاق پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العقائد پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم سیاست میں کوئی شخص نئی راہ پیدا کرتا ہے تو تم کہتے وہ بڑا عالم ہے۔جب علم الاقتصاد میں کوئی شخص نیا مسئلہ نکالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العائلہ پر کوئی شخص نئے رنگ میں روشنی ڈالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ شخص ہیں کہ آج تک جس علم میں بھی کوئی کتاب لکھی گئی ہے وہ ان کے علم کے مقابل میں بالکل ہیچ ہے۔قلمیں ان کے مقابلہ میں ٹوٹ چکی ہیں۔عالم ان کے مقابلہ میں گنگ ہوچکے ہیں۔معارف کا ایک سمندر ہے جو انہوں نے دنیا میں بہادیا ہے اور علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ایسی صورت میں اگر تم تعصب سے کام نہ لو تو بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی قابلیت ان کے غیر معمولی علم اور آسمانی تائید اور ہدایت کے نتیجہ میں ہے نہ کہ نعوذ باللہ غیر معمولی جہالت کے نتیجہ میں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاگل اور غیر معمولی عقلمند اور بڑے عالم اور بڑے جاہل میں یہ اشتراک ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے اور وہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص نیچے کی طرف غیر معمولی طور پر گرتا ہے اور دوسرا شخص اوپر کی طرف غیر معمولی طور پر جاتا ہے۔غیر معمولی علم رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے عالموں کو بھی نہیں سوجھتیں اور غیر معمولی جہالت رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے بیوقوفوں اور جاہلوں سے بھی صادر نہیں ہوتیں۔بہرحال محض کسی غیر معمولی قابلیت کی وجہ سے دوسروں سے الگ ہونا اس کے جنون کی علامت نہیں ہوتا۔بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس