تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 346

کے حالات کا تغیر بنی نوع انسان کے فائدہ کا موجب ہوا ہے یا نقصان کا موجب ہوا ہے۔اگر فائدہ کا موجب ہو تو کوئی شخص اس تغیر کو جنون کا نتیجہ قرار نہیں دے سکتا۔یہ کتنی سچی اور پختہ دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کی گئی اور پیش بھی ایسے موقع پر کی گئی جب ابھی وحی کے نزول کا ابتداء ہی ہوا تھا۔میں تو سمجھتا ہوں یہ بھی قرآن کریم کا ایک زبردست معجزہ ہے کہ اس نے ابتداء وحی میں ہی اس اعتراض کا جواب دے دیا جو دشمنان اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے متعلق کرنا تھا اور ایسی حالت میں دے دیا جبکہ خود مکہ والوں کے سامنے بھی ابھی آپ نے اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا۔سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد مکہ والوں کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔مگر نٓ وَ الْقَلَمِ کی ابتدائی آیات وہ ہیں جو اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کے معاً بعد نازل ہوئیں گویا ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی نبوت کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ خبر دے دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر مجنون ہونے کا اعتراض کیا جائے گا اور اگر پہلی وحی کے بعد کسی نے یہ اعتراض کیا بھی تھا تب بھی قرآن کریم نے پہلی وحی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دے دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جنون ہوگیا ہے اور جواب بھی ایسا زبردست دیا کہ جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔آج کل کے سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ غیر معمولی قابلیت جنون کی علامت ہوتی ہے۔میں اس کا جواب اوپر دے چکا ہوں لیکن اگر اس جواب سے کسی کی تسلی نہ ہو تو میں کہتا ہوں اگر غیر معمولی قابلیت جنون سے حاصل ہوتی ہے تو پھر ہم بھی خواہش کرتے ہیںکہ خدا کرے ہم بھی ایسے پاگل بن جائیں کیونکہ جب دنیا کی ترقی غیر معمولی قابلیت سے وابستہ ہے اور غیر معمولی قابلیت جنون کی علامت ہے تو پھر دنیا کی ترقی عقلمندوں سے نہیں بلکہ پاگلوں سے وابستہ ہے اور وہی لوگ اس قابل ہیں کہ ان کا نمونہ بننے کی کوشش کی جائے۔میور کا لفظ اِقْرَاْ پر اعتراض کہ اس سے پہلے پڑھی جانے والی چیز ہونی چاہیے میور نے اس موقعہ پر اعتراض کیا ہے کہ جب اس سورۃ میں اِقْرَاْ کہا گیا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محادثہ بالنفس والی سورتیں اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry P:260)۔اس کا استدلال یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہا گیا کہ اِقْرَاْ یعنی پڑھ تو ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ اس سے پہلے کچھ سورتیں نازل ہوچکی تھیں۔جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم