تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 344
یہ آیات اسی مضمون کی حامل ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لوگوں کا یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص واقعہ ہو گیا ہے۔یہ قرآن کریم کا ایک ایسا اعجاز ہے کہ جس پر غیر مسلم اگر دیانتداری کے ساتھ غور کریں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔دیکھو ابھی دنیا نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ نزول وحی کے واقعات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنون کی علامت ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے عرش سے دیکھ لیا کہ ایک دن آنے والا ہے جب دشمن نزول وحی کی کیفیت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ اعتراض کرے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ مجنون تھے۔چنانچہ دوسری ہی وحی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا اور فرمایا نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُوْنَ۔مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ (القلم :۲،۳) ہم قسم کھا کر پیش کرتے ہیں دوات اور قلم کو اور ان تمام تحریروں کو جو قلم اور دوات سے لکھی گئی ہیں کہ اگر دنیا کی تمام تحریروں کو جمع کیا جائے تو ان سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ تو اپنے رب کی نعمت سے پاگل نہیں ہے۔یہ دوسری سورۃ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور جس کے ابتداء میں ہی اس اعتراض کا اللہ تعالیٰ نے جواب دے دیا ہے جو پہلی وحی سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا اور وہ جواب یہ ہے کہ قلم اور دوات نے جس قدر علوم لکھے ہیں وہ سب اس امر کے شاہد ہیں کہ تو مجنون نہیں۔یعنی اگر علوم عالموں کے لکھے ہوئے ہیں تو تُو ان سے بڑھ کر علم بیان کرتا ہے۔اگر وہ ادنیٰ علوم سے عالم کہلاتے ہیں تو تُو اعلیٰ علم سے مجنون کیو ں کہلانے لگا۔بہرحال ان سے بڑا عالم کہلائے گا اور تیرا ان سے اختلاف علم کی زیادتی کی وجہ سے کہلائے گا نہ کہ علم کی کمی کی وجہ سے۔تیرے مجنون نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر روحانی ترقیات یا دین سے تعلق رکھنے والے علوم پائے جاتے ہیں ان سب کے مقابلہ میں تو دنیا کو وہ کچھ سکھائے گا جو اس نے پہلے نہیں سیکھا اور یہ ثبوت ہوگا اس بات کا کہ تو پاگل نہیں۔تیرے دماغ میں کوئی نقص نہیں اور اگر تجھے پاگل قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر ان سب لوگوں کو پاگل قرار دینا پڑے گا جنہوں نے دنیا میں علوم کو پھیلایا اور بنی نوع انسان پر علمی اور روحانی رنگ میں احسانِ عظیم کیا۔لیکن اگر وہ ان کو پاگل قرار نہیں دیتے تو تجھے کس منہ سے پاگل کہہ سکتے ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں جب کوئی شخص کسی علم پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو لوگ اس کو پاگل قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیںوہ بڑا فاضل ہے۔بڑا عالم اور سمجھدار ہے۔اس نے اس علم کی باریکیوں پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے مگر تو وہ ہے جو ہر علم کے ایسے نکات کو بیان کرتا ہے جن کی طرف اس علم کے بڑے بڑے ماہرین کی بھی آج تک نظر نہیں گئی پھر اگر وہ ایک علم پر معمولی روشنی