تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 343
ہیں بالکل ممتاز طور پر نظر آتا ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر تاریخ کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی تاریخ جانتے ہیں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر طب کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی طب جانتے ہیں اپنے فن میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔بعض دفعہ مرض معمولی معلوم ہوتا ہے عام ڈاکٹر اس کا عام علاج کرتاہے مگر ماہر فن ڈاکٹر اس مرض کی شدت کو سمجھ کر فوراً اس کا دوسرا علاج بتاتا ہے یا عام ڈاکٹر مرض کو شدید بتاتا ہے۔مگر ماہر فن اس کے معمولی مرض ہونے کو فوراً بھانپ جاتا ہے۔یہی حال سائنس کے مسائل کا ہے۔ایک شخص معمولی مسائل جانتا ہے مگر دوسرا شخص سائنس کی بڑی بڑی باریکیوں تک پہنچ جاتا اور دنیا میں کئی اہم ایجادات کا موجب بن جاتا ہے۔غرض الگ الگ قابلیتیں ہیں جو الگ الگ لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔کسی شخص کی قابلیت بہت معمولی ہوتی ہے اور کسی شخص کی قابلیت بالکل غیر معمولی ہوتی ہے اور وہ دوسروں سے اپنے کام میں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔مگر بہرحال کسی شخص میں غیر معمولی قابلیت کا پایا جانا یہ معنے نہیں رکھتا کہ اسے جنون ہوگیا ہے۔اسی طرح غیر معمولی صحت والے کی حالت بھی دوسروں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔پس محض غیر معمولی قابلیت کے نتیجہ میں کسی کی الگ حالت ہونے سے اس پر مجنون ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا اور جو ایسا کرتا ہے وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کی تمام ترقی مجنونوں سے وابستہ ہے، کیا ایسا شخص خود پاگل نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسا ن میں عقل کس لئے رکھی ہے۔اگر عقل کی غرض کوئی اعلیٰ کام کرنا ہے تو پھر اعلیٰ کام کرنا تو عقل کی علامت ہوا نہ کہ جنون کی علامت؟ اگر کسی شخص کی حالت دوسروں سے غیر ہے تو دیکھا یہ جائے گا کہ اس شخص کے حالات بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہیں یا تنزل کا۔اگر اس کا اپنی قابلیت میں غیر معمولی ہونا بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہو تو ماننا پڑے گا کہ اس کے حالات کا تغیرعقل کی زیادتی کی وجہ سے ہے اور اگر اس کے حالات بنی نوع انسان کی تباہی اور خرابی کا موجب نظر آئیں تو ماننا پڑے گا کہ اس کا تغیر جنون کی وجہ سے ہے۔بہرحال محض کسی کے حالات کا تغیر یا کسی میں غیر معمولی قابلیت کا پایا جانا اس کے جنون کی علامت نہیں ہو سکتا۔پھر یہ بھی دیکھو کہ دشمن نے تو آج یہ اعتراض کیا ہے کہ نزول وحی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نعوذباللہ نقص واقعہ ہو گیا تھا مگر قرآن کریم نے اپنی ابتدائی آیات میں ہی اس سوال کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ دے دیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ اس کا یہ اعتراض سراسر حماقت پر مبنی ہے چنانچہ سورئہ نون والقلم میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مفسرین اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ سورئہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے معاً بعد سورئہ نون والقلم کی آیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہوئیں اور