تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 342

تو درباری ہی جانتا ہے دوسرے کو کیا خبر ہوسکتی ہے۔پس یہ حالت اس قرب کی وجہ سے تھی جو اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کو حاصل تھا۔مگر اس حقیقت کو وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو روحانیت کے اس کوچہ سے قطعی طور پر ناآشنا ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے ویسے ہی دور ہیں جیسے مشرق سے مغرب دور ہوتا ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنون ہوتا ہے کیا ان کا حال صرف کپڑا اوڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کیا یہ بھی کوئی طبی مسئلہ ہے کہ جو شخص کپڑا اوڑھ لے وہ پاگل ہوتا ہے؟ یا کیا ڈاکٹر یہ پوچھا کرتا ہے کہ فلاں نظارہ کے وقت تم کپڑا اوڑھتے ہو یا نہیں؟ پس محض زَمِّلُوْنِیْ۔زَمِّلُوْنِیْ کے الفاظ سے مخالفین اسلام کا یہ استدلال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میںنعوذ باللہ نقص واقعہ ہوگیا تھا بالکل احمقانہ استدلال ہے۔بےشک اس وقت آپ پر گھبراہٹ طاری ہوئی مگر گھبراہٹ کا طاری ہونا ہرگز آپ کے اندر روحانی دماغی یا جسمانی نقص کے پائے جانے کا ثبوت نہیں۔بلکہ اس خشیت الٰہی کا ثبوت ہے جو آپ کے دل میں پائی جاتی تھی۔ہم نے تو دیکھا ہے معمولی دنیوی واقعات پر بعض لوگ دوسروں سے اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ ان کا پسینہ بہنے لگ جاتا ہے۔افسر کسی غلطی پر تنبیہ کرے یا کسی معاملہ کے متعلق ان سے باز پُرس کی جائے تو اس قدر ان پر رعب طاری ہوتا ہے کہ ہاتھ پائوں کانپنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو پسینہ جاری ہوجاتا ہے۔جب معمولی افسروں کے رعب کی وجہ سے انسان کی یہ حالت ہوجاتی ہے تو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اوراس کی جبروت کا آپ پر کس قدر اثر ہوسکتا تھا۔نزول وحی کے بعد آنحضرت صلعم کے کپڑا اوڑھنے کی وجہ پس آپ نے اگر زَمِّلُوْنِیْ۔زَمِّلُوْنِیْ کہا تو اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ آپ پر الٰہی کلام کارعب طاری ہوگیا۔آپ نے چاہا کہ تھوڑی دیر کے لئے آپ لیٹ جائیں تاکہ آپ کے قویٰ کو سکون حاصل ہوجائے۔وہ لوگ جو اس کو جنون کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کپڑااوڑھنا جنون کی علامت ہوتی ہے؟ ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ کوئی ڈاکٹر کسی ایسے مریض کے پاس گیا ہو جس میں جنون کے آثار پائے جاتے ہوں تو اس نے مریض کے لواحقین سے یہ سوال کیا ہو کہ کیا یہ مریض کبھی کپڑا بھی اوڑھتا ہے یا نہیں؟ اگر کپڑااوڑھتا ہے تو ضرور پاگل ہے اور اگر کپڑا نہیں اوڑھتا تو پاگل نہیں۔ایسا سوال آج تک کبھی کسی ڈاکٹر نے نہیں کیا۔پس محض کپڑا اوڑھنے سے مخالفین اسلام کا یہ نتیجہ نکالنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جنون ہوگیا تھاخود ان کے مجنون ہونے کی علامت ہے۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی حالتیں بھی مجونانہ تھیں یا نہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہر غیر معمولی قابلیت والے شخص کی حالت دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر حساب کی قابلیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی حساب جانتے