تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 282
انہوں نے کسی نبی کو مارا، کسی کو دکھ دیا اور کسی کو بے عزت کیا۔آخر خدا نے اپنا بیٹا بھیجا جس سے مراد حضرت مسیحؑ خود تھے۔جو موسٰی کے بعد آنے والے نبیوں میں سے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب تھے مگر لوگوں نے ان کی بھی پرواہ نہ کی اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا۔حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں۔تم جانتے ہو اب کیا ہو گا۔باغ کا مالک آئے گا اور ان باغبانوں کوہلاک کر کے انگور کا باغ اوروں کو دے گا۔یعنی اب وہ نبی دنیا میں ظاہر ہو گاجس کا آنا خود خدا کا آنا ہو گا۔جس کا ظہور خدا تعالیٰ کا ظہور ہو گا۔اور وہ گذشتہ سنت کے خلاف بنی اسرائیل میں سے نہیں ہو گا بلکہ ان کے بھائیوں بنی اسمٰعیل میں سے ہو گا۔یہ تمثیل واضح کر رہی ہے کہ حضرت مسیحؑ پیدائش عالم کاآخری نقطہ نہیں تھے اگر آخری نقطہ ہوتے تو وہ اپنے بعد ایک ایسے نبی کی بعثت کی خبر نہ دیتے جس کا آنا خود خدا کا آنا تھا۔یہ بات ظاہر ہے کہ بیٹا باپ نہیں ہو سکتا۔پس اس تمثیل میں جس کو باپ کہا گیا ہے وہ یقیناً بیٹے کے علاوہ کوئی اور شخص ہی ہو سکتا ہے اور جب مسیحؑ کے علاوہ ہدایت عالم کے لئے کسی اور شخص کا آنا خود مسیحؑ کی اپنی پیشگوئی کے ماتحت ثابت ہو گیااور ساتھ ہی یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ مسیحؑکے متعلق یہ خیال درست نہیں کہ وہ پیدائش عالم کا آخری نقطہ تھا۔اگر مسیحؑسے نیکی قائم ہو چکی تھی تو پھر مسیح کے سوا کسی اور کے آنے کی کوئی غرض ہی نہیں ہو سکتی تھی مگر جیسا کہ انجیل کے مذکورہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے مسیحؑ اگر خدا کا بیٹا تھا تو خود خدا بھی آنے والا تھا۔اسی طرح حضرت مسیحؑ ایک اور مقام پر کہتے ہیں۔’’ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہیں بتا دے گی۔اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی۔‘‘ (یوحنا باب۱۶ آیت ۱۲،۱۳) یہاں حضرت مسیحؑ اقرار کرتے ہیں کہ میرے بعد ایک اور شخص آئے گا جو روح حق کہلائے گا اور وہ ایسی تعلیمیں دے گاجو میں نے بھی نہیں دیں۔یعنی مجھ سے بڑھ کر سچائی کی راہیں دنیا پر روشن کرے گااور میری تعلیم سے زیادہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔اور پھر ایک مزید بات یہ ہو گی کہ اس کو ایسی کتاب ملے گی جس میں اس کے اپنے الفاظ نہیں ہوں گے بلکہ صرف وہی الفاظ ہوں گے جو خدا نے کہے ہوںگے۔’’ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی۔‘‘ ان الفاظ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کو جو کتاب ملے گی اس کی یہ ممتاز خوبی ہو گی کہ شروع سے لے کر آخر تک وہ اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہو گی۔کوئی بات اس میں ایسی نہیں ہو گی جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ یہ انسان کا کلام ہے خدا کا کلام نہیں۔گویا اوّل حضرت مسیحؑ اپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دیتے ہیں۔دوم حضرت مسیحؑ یہ خبر بھی