تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 283
دیتے ہیں کہ وہ آنے والا اپنے ساتھ ایک کتاب بھی لائے گا۔سوم اس کتاب کی یہ خوبی بتاتے ہیں کہ اس میں انسانی کلام نہیں ہو گا بلکہ ابتداء سے انتہا تک اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف خدائی کلام پر مشتمل ہو گا۔اس پیشگوئی کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے اور آپ نے وہ شریعت لوگوں کے سامنے پیش کی جو اپنی شان اور عظمت کے لحاظ سے تمام الہامی کتب میں یگانہ حیثیت رکھتی ہے۔بائیبل کو دیکھا جائے تو جہاں اس میں خدائی کلام نظر آتا ہے وہاں بہت سی انسانی باتیں بھی اس میں دکھائی دیتی ہیں۔اگر ایک طرف اس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے جو موسٰی نے کیں تو دوسری طرف ہم اس میں یہ بھی لکھا پاتے ہیں کہ ’’ خداوند کا بندہ موسٰی خداوندکے حکم کے موافق مو آب کی سر زمین میں مر گیااور اس نے اسے مو آب کی ایک وادی میں بیتِ فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘( استثناء باب ۳۴ آیت ۵ ) اب بتائو کیا یہ خدا کا کلام ہے جو موسٰی پر نازل ہوا کہ موسٰی مر گیااور فلاں جگہ گاڑا گیا مگر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ بعد میں لوگوں نے بڑھا دئیے تھے۔جب موسٰی مر چکے تھے اور ان کی موت پراس قدر عرصہ گزر چکا تھا کہ ان کی قبر کا بھی لوگوں کو علم نہیں رہا تھا کہ وہ کس جگہ تھی۔اسی طرح متی، مرقس اور لوقا وغیرہ میں جہاں خدا کی باتیں ہیں وہاں بندوں کی باتیں بھی ہمیں ان میں صاف طور پر نظر آتی ہیں۔خود لوقا کہتا ہے ’’ چونکہ بہتوں نے کمر باندھی کہ ان کاموں کا جو فی الواقعہ ہمارے درمیان انجام ہوئے بیان کریں۔جس طرح سے انہوں نے جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کی خدمت کرنے والے تھے ہم سے روایت کی میں نے بھی مناسب جانا کہ سب کو سرے سے صحیح طور پر دریافت کر کے تیرے لئے اے بزرگ تھیوفلس بہ ترتیب لکھوں تا کہ تو ان باتوں کی حقیقت کو جن کی تو نے تعلیم پائی جانے۔‘‘ (لوقا باب ۱ آیت ۱ تا ۴ ) گویا موجودہ اناجیل کیا ہیں؟ وہ کتب ہیں جو حضرت مسیحؑ کی وفات کے بعد مختلف لوگوں نے مرتب کیں اور انہوں نے مختلف روایات کو ایک ترتیب سے ان میں جمع کر دیا۔اس لئے ان کتب میں جہاں ہمیں وہ کلام نظر آتا ہے جو خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے وہاں ایسا کلام بھی ان میں پایا جاتا ہے اور اسی کی کثرت ہے جو کہ بندوں نے اپنی طرف سے شامل کر دیا ہے۔غرض دنیا میں کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جو شروع سے آخر تک صرف وہی باتیں بیان کرتی ہوجو خدا نے کہی ہوں۔تورات لے لو۔انجیل لے لو۔ژند اور اوستالے لو۔وید لے لو ہر کتاب انسانی دست بُرد کا شکار نظر آئے گی۔ہرکتاب میں خدائی الہامات کے ساتھ ساتھ بندوں کی اپنی تشریحات کو بھی شامل دیکھو گے۔مگر قرآن وہ کتاب ہے جو ابتداء سے انتہاء تک ہر قسم کے انسانی الفاظ سے منزہ ہے۔ابتداء سے انتہاء تک اس کا ایک ایک لفظ ایک ایک حرف