تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 281
میں کون سا نیک کام کروںکہ ہمیشہ کی زندگی پائوں؟ اس نے اس سے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے۔نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔پر اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہے تو حکموں پر عمل کر۔‘‘ (متی باب ۱۹ آیت ۱۶، ۱۷) گویا مسیحؑ خود کہتے ہیں کہ میں نیک نہیں۔اب بتائو جس نے دنیا کو نیکی دینی تھی جب وہ اپنی نیکی کا آپ منکر ہے تو ہم یہ کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ بے گناہ تھااور دنیا کو گناہوں سے پاک کرنے کے لئے آیا تھا۔یہ تو وہی مثال بن جاتی ہے کہ مدعی سست اور گواہ چست۔چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعہ میں مسیح ؑنیک تھا اور اگر واقعہ میں اس کے کفارہ کے ذریعہ دنیا گناہ سے بچ گئی تھی اور اس میں یہ قابلیت پیدا ہو گئی تھی کہ وہ نیکی کو اختیار کرے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گاکہ مسیحؑ پیدائش عالم کا آخری نقطہ تھا۔کیونکہ انسانی پیدائش کی غرض اس کے آنے سے پوری ہو گئی لیکن جب ہم بائیبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسیحؑ پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھا۔بلکہ اگر مسیحؑ خدا کا بیٹا تھاتو اس کی اپنی پیش گوئی کے مطابق خود خدا بھی دنیا میں آنے والا تھا چنانچہ مرقس باب ۱۲ میں وہ اس پیشگوئی کو تمثیلی رنگ میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’ ایک شخص نے انگور کا باغ لگایااور اس کے چاروں طرف گھیرا اور کولھوکی جگہ کھودی اور ایک برج بنایا اور اسے باغبانوں کے سپرد کر کے پردیس چلا گیا۔پھر موسم میں اس نے ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ باغبانوں سے انگور کے باغ کے پھل میں سے کچھ لے۔انہوں نے اسے پکڑ کے مارااور خالی ہاتھ بھیجا۔اس نے دوبارہ ایک اور نوکر کو ان کے پاس بھیجا۔انہوں نے اس پر پتھر پھینک کے اس کا سر پھوڑا اور بے حرمت کرکے پھیر بھیجا۔پھر اس نے ایک اور کو بھیجاانہوں نے اسے قتل کیاپھر اور بہتیروں کو۔ان میں سے بعضوں کو پیٹا اور بعضوں کو مار ڈالا۔اب اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو اس کا پیارا تھا۔آخر کو اس نے اسے بھی ان پاس یہ کہہ کے بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دبیں گے۔لیکن ان باغبانوں نے آپس میں کہا یہ وارث ہے آئو ہم اسے مار ڈالیں تو میراث ہماری ہو جائے گی اور انہوں نے اسے پکڑ کے قتل کیااور انگور کے باغ کے باہر پھینک دیا۔پس باغ کا مالک کیا کہے گا؟ وہ آوے گا اور ان باغبانوں کو ہلاک کر کے انگور کا باغ اوروں کو دے گا۔‘‘ (مرقس باب۱۲۔آیت ۱تا ۹) اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ سلسلۂ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی اصلاح کے لئے قائم کیا۔باغ بنانے والا موسٰی تھا جو الٰہی جلال کے اظہار کے لئے آیا اور باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے جن کے سپرد اس باغ کی حفاظت کا کام کیا گیا۔نوکر جو میوہ کا حصہ لینے کے لئے باغ کے مالک کی طرف سے یکے بعد دیگرے بھیجے گئے اللہ تعالیٰ کے وہ انبیاء تھے جو موسٰی کے بعد پے بہ پے آتے رہے مگر لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ یہ رہا کہ