تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 228
کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہری تھی۔وَقَالَ بَعْضُ الْاَئِـمَّۃِ ھٰذِہٖ مَـحَالٌّ ثَلَاثَۃٌ بَعَثَ اللہُ فِیْ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْـھَا نَبِیًّا مُّرْسَلًا مِّنْ اُولِی الْعَزْمِ اَصْـحَابِ الشَّـرَائِعِ الْکِبَارِ بعض آئمہ کہتے ہیںکہ یہ تین اہم مقامات ہیں جن میں سے ہر مقام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم اور صاحب شریعت انبیاء کو بھیجا تھا۔فَالْاَوَّلُ مَـحَلَّۃُ التِّیْنُ وَالزَّیْتُوْنُ وَھِیَ بَیْتُ الْمُقَدَّسِ الَّتِیْ بَعَثَ اللہُ فِیْـھَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ پہلے نبی کے اترنے کا محل تین اور زیتون کا مقام ہے اور اس سے مراد وہ بیت المقدس ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ابن مریمؑ کو نازل کیا تھا۔گویا ان کے نزدیک تین اور زیتون دونوں سے مراد بیت المقدس ہے گو بعض آئمہ نے صرف تین کے متعلق یہ کہا تھا کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے مگر یہ کہتے ہیں تین اور زیتون دونوں سے بیت المقدس مراد ہے کیونکہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔وَالثَّانِیْ طُوْرُ سِیْنِیْنَ اور دوسرا مقام طور سینین ہے۔وَھُوَ طُوْرُ سَیْنَاءَ الَّذِیْ کَلَّمَ اللہُ عَلَیْہِ مُوْسَی بْنَ عِـمْرَانَ اوراس سے مراد وہ طور ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسٰی بن عمران سے باتیں کی تھیں۔وَالثَّالِثُ مَکَّۃُ اور بلد الامین جس کا تیسرے مقام پر ذکر آتا ہے اس سے مراد مکہ ہے۔وَ ھٰذَا الْبَلَدُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا اور یہ وہی بلد الامین ہے جس میں داخل ہوکر انسان کو امن حاصل ہوجاتا ہے۔وَھٰذَا وَالَّذِیْ اُرْسِلَ فِیْہِ مُـحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اور یہی وہ جگہ ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔اس کے بعد ابن کثیر والے لکھتے ہیں کہ وَ قَالُوْا وَفِیْ اٰخِرَۃِ التَّوْرَاۃِ ذِکْرُ ھٰذِہِ الْاَمَاکِنِ الثَّلَاثَۃِ یعنی بعض مفسرین نے جو یہ معنے کئے ہیں کہ تین اور زیتون سے مراد تین اور زیتون کے پیدا ہونے کی جگہ ہے خصوصاً تین اور زیتون سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ مقام ہے جہاں آپ نازل ہوئے۔طورِ سینین سے مراد وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور بلد الامین سے مراد وہ مکہ ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ان تینوں مقامات کا تورات کے آخر میں ذکر آتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے جَاءَ اللہُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَاءَ۔۔۔۔۔۔۔وَاَشْـرَقَ مِنْ سَاعِیْـرَ۔۔۔۔۔۔۔وَاسْتَعْلَنَ مِنْ جِبَالِ فَارَانَ یعنی ’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا‘‘ (استثناء باب ۳۳ آیت ۲) یہ ایک مشہور حوالہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق بائبل میں پایا جاتا ہے اور میرے نزدیک یہ پہلا حوالہ ہے جو مفسرین نے صحیح طور پر پیش کیا ہے اور اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئی بھی پائی جاتی ہے ورنہ مفسرین بائبل کے جو حوالہ جات دیتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتے ہیں یا تو وہ حوالے بائبل میں ملتے ہی