تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 229

نہیں اور اگر ملتے ہیں تو اُس رنگ میں نہیں ہوتے جس رنگ میں مفسرین ان کا ذکر کرتے ہیں۔یہ پہلا حوالہ ہے جو انہوں نے صحیح طور پر پیش کیا ہے۔چنانچہ جَاءَ اللہُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَاءَ کے ساتھ انہوں نے بطور تشریح لکھا ہے یعنی الَّذِیْ کَلَّمَ اللہُ عَلَیْہِ مُوْسٰی اور اَشْـرَقَ مِنْ سَاعِیْـرَ کے ساتھ لکھا ہے یعنی جَبَلُ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ الَّذِیْ بَعَثَ اللہُ مِنْہُ عِیْسٰی اور وَاسْتَعْلَنَ مِنْ جِبَالِ فَارَانَ کے ساتھ لکھا ہے۔یعنی جِبَالُ مَکَّۃَ الَّتِیْ اَرْسَلَ اللہُ مِنْـھَا مُـحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔پھر اس کے بعد وہ ایک نوٹ میں لکھتے ہیں فَذَکَرَھُمْ مُّـخْبِـرًا عَنْـھُمْ عَلَی التَّـرْتِیْبِ الْوُجُوْدِیِّ بِـحَسَبِ تَرْتِیْبِـھِمْ فِی الزَّمَانِ یعنی اس پیشگوئی میں جو بائبل میں بیان کی گئی ہے ان تینوں انبیاء کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ اسی ترتیب سے ذکر ہے جس ترتیب کے ساتھ یہ تینوں انبیاء یکے بعد دیگرے آئے۔پہلے طُوْرِ سِیْنَا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے اور اَشْـرَقَ مِنْ سَاعِیْـر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے اور اسْتَعْلَنَ مِنْ جِبَالِ فَارَانَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے کیونکہ اسی ترتیب سے یہ انبیاء آئے تھے۔پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام آئےتھے، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے اور آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے گویا جس ترتیب سے ان انبیاء نے ظاہر ہونا تھا اسی ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کا بائبل میں ذکر کیا ہے۔وَلِھٰذَا اَقْسَمَ بِالْاَشْـرَفِ ثُمَّ الْاَشْـرَفِ مِنْہُ ثُمَّ بِالْاَشْـرَفِ مِنْـھُمَا یہاں معلوم ہوتا ہے کوئی عبارت رہ گئی ہے یا ترتیب زمانی چونکہ پہلے بیان ہوچکی تھی اس لئے انہوں نے خیال کرلیا کہ لوگ خودبخود اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ قرآن کریم نے بائبل کی ترتیب کے خلاف پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ذکر کیا ہے تو درجہ کی ترتیب کے لحاظ سے کیا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں قرآن کریم نے زمانی ترتیب کو نہیں لیا بلکہ درجہ کی ترتیب کو لیا ہے اور اس لئے پہلے تین اور زیتون کا ذکر کیا ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں کیونکہ وہ باقی دو انبیاء سے درجہ میں چھوٹے ہیں۔اس کے بعد طورِ سینین میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ درجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے ہیں۔آخر میں وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا کیونکہ آپ عیسٰیؑ اور موسٰی دونوں سے افضل ہیں۔یہ توجیہ ابن کثیر والوں کی نہایت معقول اور درست ہے میں نے دیکھا ہے کہ اکثر مقامات پر ان کی عقل خوب چلتی ہے۔وہ کہتے ہیں بائبل نے تو ان کی ترتیب وجودی کومدنظر رکھا تھا مگر قرآن کریم نے ان کی ترتیب مقامی کو مدنظر رکھا ہے۔وہاں یہ ذکر تھا کہ پہلے کون ہوگا پھر کون ہوگا اور پھر اس کے بعد کون ہوگا۔لیکن یہاں یہ ذکر ہے کہ ان تینوں میں سے چھوٹا درجہ کس کا ہے اور پھر اس سے بڑا درجہ کس کا ہے اور پھر ان دونوں سے بڑا درجہ کس کا ہے۔یہ