تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 227

جیسے آدمی نے اس قسم کی بات نقل کردی۔وہ روایت یہ کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا تھا کہ تین اور زیتون سے یہ مراد ہے۔حالانکہ وہ کوئی بچہ بھی ہوسکتا ہے۔پاگل بھی ہوسکتا ہے لغت سے ناواقف بھی ہوسکتا ہے۔ایک غیرمعروف الحال شخص کی ایک بے ہودہ بات پر قرآن کریم کی تفسیر کی بنیاد رکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔یا تو وہ کہتے کہ میں لغت کو جانتا ہوں اس لئے میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں یا فلاں ادیب سے میں نے ایسا سنا ہے یا فلاں قبیلہ میں اس کے یہ معنے کئے جاتے تھے مگر وہ کہتے یہ ہیں کہ میں نے ایک شخص سے سنا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ تین سے یہ مراد ہے اور زیتون سے وہ مراد ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے غالب اور ذوق کہیں کہ ہم نے ایک گائوں کے جاہل اور اجڈ لڑکے کو فلاں شعرکے یہ معنے کرتے سنا ہے۔غرض فتح البیان والوں کا یہ فقرہ بڑا لطیف ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اوّل تو مجھے یقین نہیں آتا کہ تم نے ایسا سنا ہو۔لیکن اگر سن بھی لیا تھا تو اس پر قرآن کریم کی تفسیر کی بنیاد رکھنا کس طرح درست تھا۔فتح البیان والے اگر اس اصول پر قائم رہتے تو بہت اچھا ہوتا مگر وہ خود بھی ایسی بہت سی باتیں کہہ گئے ہیں۔قَالَ مُـحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ اَلزَّیْتُوْنُ مَسْجِدُ اِیْلِیَا۔محمد بن کعب کہتے ہیں کہ زیتون سے مراد مسجد ایلیا ہے۔وَقِیْلَ اِنَّہٗ عَلٰی حَذْفِ مُضَافٍ اَیْ وَ مَنَابِتِ التِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ بعض نے کہا ہے کہ یہاں حذف مضاف ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم تین اور زیتون اگانے والی جگہوں کوپیش کرتے ہیں۔قَالَ النُّحَاسُ لَا دَلِیْلَ عَلٰی ھٰذَا مِنْ ظَاہِرِ التَّنْزِیْلِ وَلَا مِنْ قَوْلِ مَنْ لَّا یَـجُوْزُ خِلَافَہٗ نحاس کہتے ہیں کہ اس توجیہہ کے متعلق قرآن کریم کی کوئی تصدیقی دلیل نہیں ملتی اور نہ کسی ایسے آدمی کا قول ملتا ہے جس کی بات کو ردّ کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔قَالَ الرَّازِیُّ اَمَّا الزَّیْتُوْنُ فَھُوَ فَاکِھَۃٌ مِّنْ وَّجْہٍ وَّ دَوَاءٌ مِّنْ وَّجْہٍ وَّ یُسْتَصْبَحُ بِہٖ۔رازی کہتے ہیں کہ زیتون سے مراد وہی شے ہے جو ایک لحاظ سے میوہ ہے کہ لوگ اسے کھاتے ہیں اور ایک لحاظ سے دوا بھی ہے اور اس سے دیئے بھی جلائے جاتے ہیں۔پھر کہتے ہیں وَمَنْ رَأَی وَرَقَ الزَّیْتُوْنِ فِی الْمَنَامِ اِسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی اگر کوئی شخص خواب میں زیتون کے ورق دیکھ لے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ایک مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا کڑا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔اب ہم تفسیر ابن کثیر کو دیکھتے ہیں۔اس میں لکھا ہے قَالَ الْقُرْطَبِیُّ ھُوَ مَسْجِدُ اَصْـحَابِ الْکَہْفِ قرطبی کا بیان ہے کہ اس سے اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے۔وَرَوَی الْعَوْفِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَسْجِدُ نُوْحٍ اَلَّذِیْ عَلَی الْـجُوْدِیِّ عوفی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس سے وہ مسجد نوح مراد ہے جو جودی پہاڑ پر ہے جہاں طوفان