تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 19
مثال پیش کیا ہے جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے اور وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا میںرات کو بطور مثال پیش کیا ہے جب زمین کے چکر کاٹ کر جانے کے وقت سورج اوجھل ہو جاتا ہے۔ان چار آیات میںچار الگ الگ زمانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میںاللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہم سورج کو تمہارے سامنے بطورمثال پیش کرتے ہیں جب تک اپنی ذات میںچمکنے والا وجود دنیا میں نہ آئے بالخصوص ایسے زمانہ میں جب نور بالکل مٹ چکا ہو اس وقت تک دنیا کبھی ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں اٹھا سکتی جیسے بجھی ہوئی آگ ہو تو اس سے دوسری آگ روشن نہیںہو سکتی یا بجھا ہوا دیا ہو تو اس سے دوسرا دیا روشن نہیں ہو سکتا۔ری فلیکٹر اسی وقت فائدہ دیتا ہے جب نور موجود ہو۔مثلاً اگر لیمپ جل رہا ہو اور اس پر ری فلیکٹرلگا دیا جائے تو بے شک اس کی روشنی دور تک پھیل جائے گی یا جیسے بیٹریوں کی روشنی بہت معمولی ہوتی ہے لیکن اوپر کا شیشہ جو ری فلیکٹر کے طور پر لگا ہوا ہوتا ہے اس کی معمولی روشنی کو بھی دور تک پھیلا دیتا ہے اگر اس شیشہ کو تم نکال دو تو بیٹری کی روشنی آدھی سے بھی کم رہ جائے گی۔بہر حال ری فلیکٹر اسی صورت میںکام آسکتا ہے جب نورموجود ہو، روشنی اپنی کسی نہ کسی شکل میں قائم ہو لیکن اگر نور مٹ چکا ہو، تما م روشنیاں گُل ہوچکی ہوں تو اس وقت ایسا ہی وجود کام آسکتا ہے جو ذاتی طور پر اپنے اندر روشنی رکھتا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے سورج کو پیش کرتے ہیں جو اپنے اندر ذاتی روشنی رکھتا ہے اور جو ظلمتوں کو دور کرنے کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔اس کے بعد روشنی کا دوسرا ذریعہ چاند ہوتا ہے اور وہ بھی ایسی حالت میں جب وہ سورج کے سامنے آجاتا ہے اس وقت وہ بھی دنیا کو اپنی شعاعوں سے منور کر دیتا ہے۔یہ دو ذرائع ہیں جو دنیا میںانتشار ِ نور کے لئے کام آتے ہیں اللہ تعالیٰ ان مثالوں کو کفارِ مکہ کے سامنے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے تم اچھی طرح سوچ لو کیا تمہارے پاس ان دونوں ذرائع میں سے کوئی ایک بھی ذریعہ موجود ہے، کیا تمہارے پاس کوئی شمس ایسا ہے جو اپنے اندر ذاتی روشنی رکھتا ہو؟ شمس سے مراد شریعت لانے والا وجود شمس سے مرادوہ وقت ہوتا ہے جب شریعت لانے والا وجود براہ راست دنیا کو فائدہ پہنچا رہا ہو۔پھر فرماتا ہے اگر کسی شمس کو تم پیش نہ کر سکو تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ گو شمس ہم میںموجود نہیں مگر اس سے اکتسابِ نور کر کے ایک چاند ہم کو منور کر رہاہے۔بہر حال دو ہی چیزیں دنیا کو منور کر سکتی ہیں یا تو ذاتی روشنی رکھنے والا کوئی وجود ہو اور اگر اس کی روشنی دور چلی جائے تو پھر ا س کے بالمقابل آجانے والا کوئی ری فلیکٹر جو اس کی روشنی کو جذب کر کے دوسروں تک پہنچا دے۔ان دو صورتوں کے علاوہ روشنی حاصل کرنے کی اور کوئی صورت نہیں۔