تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 18
حصۂ ملک کے سامنے نہ ہو تو خواہ اس کے آگے بادل نہ ہو ہمارے ملک والے اس وقت کو دن نہیں کہیں گے اور یہ نہیں کہیں گے کہ سورج روشن ہے پس نَـھَار اور مفہوم پیدا کرتا ہے اور ضُحٰىهَا اور مفہوم پیدا کرتا ہے۔ضُـحَی الشَّمْسِ ہروقت قائم رہتی ہے خواہ سورج کسی حصۂ دنیا کے سامنے ہو یا نہ ہو۔کیونکہ وہ سورج کی ذاتی روشنی پر دلالت کرتی ہے اور نہار دنیا کے مختلف حصوں کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے کبھی یہاں دن کبھی وہاں۔کیونکہ دن اس وقت کو کہتے ہیں جب زمین سورج کے سامنے ہو کر لوگوںکو اپنی ضُـحیٰ دکھا تی ہے۔وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ۰۰۵ اور رات کی جب وہ اس کو ڈھانپ دے۔تفسیر۔وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا سے مراد رات کے وقت زمین کا منہ پھیر کر سورج کو اوجھل کر دینا ہے۔رات کیا ہوتی ہے؟ جب سورج کی طرف سے زمین اپنی پیٹھ پھیر لیتی ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے تو اسے رات کہتے ہیں پس چونکہ لَیْل ایک زمینی فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس لئے یہاں لَیْل کے متعلق یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ دن کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے لیکن اصل مطلب یہ ہے کہ زمین سورج کی طرف سے چکر کاٹ کر لَیْل پیدا کر دیتی ہے گویا وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میں تو زمین کی اس حالت کا ذکر کیا تھا جب وہ سورج کے سامنے آکر آبادی کو سورج دکھا دیتی ہے اور وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا میں زمین کی اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے جب وہ سورج سے اپنا منہ موڑ کر لَیْل پیدا کردیتی اور دنیا کی نظروں سے سورج کو روپوش کر دیتی ہے۔یہ چار چیزیں ہیں جو الگ الگ معنے رکھتی ہیں وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا سے سورج اور اس کی ذاتی روشنی مراد ہے وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا سے چاند اور اس کی عکسی روشنی مراد ہے وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میں زمین اور اس کی انعکاسی روشنی مراد ہے وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا میں زمین اور اس کی نور سے محرومی مراد ہے۔سورج تو اپنے اندر ذاتی طور پر یہ وصف رکھتا ہے کہ وہ دنیا کو روشن کرے لیکن چاند میں بِالْقُوَّۃِ روشنی اخذ کرنے کی طاقت ہوتی ہے یعنی اس کے اندر یہ قابلیت پائی جاتی ہے کہ وہ سورج سے روشنی لے اور اپنے اندر جذب کر کے اسے دوسروں تک پہنچا دے جیسے ری فلیکٹر ہوتے ہیںکہ وہ لیمپ کی روشنی کو بہت دور تک پھیلا دیتے ہیں۔اب خواہ چاند چمک نہ رہا ہو لیکن چمکنے کی قابلیت اس میں موجود ہوتی ہے جب وہ سورج کے سامنے آجاتا ہے تو اس کی یہ قابلیت ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ اس کی روشنی کو دوسروں تک پھینکنے لگ جاتا ہے شمس اور قمر کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میں دن کو بطور