تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 20

اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مکہ والو! تمہیں تو ان دونوں حالتوں میں سے کوئی حالت بھی نصیب نہیں۔مثلاً پہلی چیز یہ ہوتی ہے کہ شریعت موجود ہو مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ تمہارے پاس نہ نوحؑ کاقانون ہے نہ ابراہیمؑ کا قانون ہے نہ کسی اور نبی کا قانون ہے اور جب تمہارے پاس کوئی قانون ہی نہیں تو تم اپنے متعلق کیاامید کر سکتے ہو اور کس طرح اس غلط خیال پر قائم ہو کہ تمہارے باپ دادا کی بجھی ہوئی روشنیاں تمہارے کام آجائیں گی۔تمہاری حالت تو ایسی ہے کہ تمہیں لازمی طورپر ایک شارع نبی کی ضرورت ہے کیونکہ ساری شریعتیں تم میںمفقود ہیں اور جب کہ سب کی سب شرائع مفقود ہو چکی ہیں تو اب ضروری ہے کہ کوئی شمسِ ہدایت آئے جو ان تاریکیوں کو اجالے سے بدل دے۔جب تک ایسا وجود نہیں آتا جو اپنے اندر ذاتی طور پر روشنی رکھنے والاہو اس وقت تک پرانے لیمپ جو بجھ چکے ہیں تمہارے کسی کام نہیںآسکتے۔روشنی کے حصول کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ قمر ظاہر ہو جائے۔مگر قمر بھی اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب شمس تو موجود ہو مگر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے اس کے بغیروہ کسی کام نہیںآسکتا۔اگر تم یہ کہو کہ ہم قمر سے فائدہ اٹھا لیں گے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ تم میںکوئی شریعت موجو د نہیںکہ غیر شریعت والا کوئی قمر ظاہر ہو جائے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کی اس حالت کو پیش کیا ہے جب وہ نہار پیدا کر دیتی ہے اور آخر میں اس حالت کو رکھا گیا ہے جب زمین سورج سے پیٹھ موڑ کر لوگوں کے لئے لَیْل پیدا کر دیتی ہے۔سورۃ کی پہلی چار آیات میں اسلام کے دو اہم زمانوں کی طرف اشارہ ان آیات میںاسلام کے دو اہم زمانوں کی طرف نہا یت ہی بلیغ انداز میں اشارہ کیا گیا ہے۔وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میں تو اسلام کی غرض کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات میںچمکنے والے سورج ہیں جوں جوں یہ سورج طلوع کرتا جائے گا وہ نور جو ذاتی طور پر سورج کے اندر موجود ہے زمین میں پھیلتا چلا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو قرآن جو آج ہمارے ہاتھوںمیں ہے یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نفسِ مطّہر سے ہی نکل کر آیا ہے۔خدا نے اس عظیم الشان کلام کے نزول کے لئے آپ کو چنا اور پھر آپ کے ذریعہ یہ کلام ہمارے ہاتھوں تک پہنچا۔وہ تفصیلات جوقرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور وہ غیر متبدل تعلیمات جن کو اسلام نے پیش کیا ہے خواہ وہ تزکیہ نفوس سے تعلق رکھتی ہوں یا سیاسی اور تنظیمی تعلیمات ہوں یا اخلاقی اور اقتصادی تعلیمات ہوں بہر حال وہ سب کی سب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ سے نکل کر ہم تک پہنچی ہیں۔پس آپ وہ شمس تھے جن کی ضُـحٰی اپنی ذات میں آپ کی صدا قت کی ایک بہت بڑی دلیل تھی دنیا خواہ آپ کو مانے یا نہ مانے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دنیا قرآن کریم کو بند کر کے رکھ دے اور کہے کہ