تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 209
کے غلط نتائج انہیں جلد ہی نظر آنے لگ جائیں گے۔غرض فرماتا ہےوَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔اے محمد رسول اللہ کیا ہم نے تجھے یہ سامان نہیں بخشا کہ ایک طرف تجھے ہم نے ایسے ساتھی دیئے جنہوں نے تیرا بوجھ اٹھالیا اور دوسری طرف ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی جو خود بخود فطرت کے اندر نفوذ کرتی چلی جاتی ہے کوئی روک اس کی اشاعت میں حائل نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب کفار مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کرلیا کہ میں بھی مکہ کو چھوڑ کر کہیں باہر چلا جائوں۔ایک دن آپ اسی ارادہ سے باہر جارہے تھے کہ راستہ میں آپ کو مکہ کا ایک رئیس ملا اور اس نے دریافت کیا کہ آپ کہاں جارہے ہیں؟ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں یہاں سے ہجرت کرکے کہیں باہر جارہا ہوں۔اس نے کہا ہجرت؟ وہ شہر نہ اجڑ جائے جس میں سے تم سا انسان نکل جائے۔میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔آئندہ تمہیں کوئی شخص دکھ نہ دے گا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور اس رئیس نے اعلان کردیا کہ ابوبکرؓ میری پناہ میں ہیں۔مکہ والے پناہ کا بڑا لحاظ کیا کرتے تھے۔چنانچہ اس اعلان کے بعد ایسا ہی ہوا کہ مکہ والوں نے حضرت ابوبکرؓ کو دکھ دینا ترک کردیا اور آپ آزادانہ رنگ میں مکہ کے گلی کوچوں میں پھرتے۔حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی طبیعت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طبیعت سے ملتی تھی اور سوز اور گداز کا مادہ آپ میں بہت زیادہ تھا۔جب صبح کے وقت آپ اٹھتے تو قرآن کریم کی تلاوت نہایت سوز اور رقت کے ساتھ کرتے اور آپ کی آنکھوں سے آنسوبہتے جاتے۔مکہ کی عورتیں اور بچے جب اس نظارہ کو دیکھتے وہ اکٹھے ہوجاتے اور نہایت توجہ کے ساتھ کان لگا کر سنتے کہ ابوبکرؓ کیا پڑھ رہے ہیں۔جب ایک طرف وہ ابوبکرؓ کی رقت اور گریہ و زاری کو دیکھتے اور دوسری طرف قرآن کریم کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیم ان کے کانوں میں پڑتی تو وہ بے اختیار ہوکر کہنے لگ جاتے کہ واہ وا یہ کیسی اچھی باتیں ہیں۔یہ اثر روز بروز بڑھتا چلا گیا یہاں تک مکہ والوں کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگر ابوبکرؓ اسی طرح قرآن پڑھتے رہے تو ہماری عورتیں اور بچے سب مسلمان ہوجائیں گے۔چنانچہ وہ اکٹھے ہوکر اس رئیس کے پاس گئے جس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنی پناہ میں لیا تھا۔اور کہا کہ اپنی پناہ واپس لے لو ورنہ ہمارا دین بگڑ جائے گا(صحیح بـخاری کتاب مناقب الانصار باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینۃ)۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح قرآن کریم لوگوں کے دلوں میں دھنستا جاتا تھا۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے وہ نکلے تو اس ارادہ سے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کریں مگر جب انہیں اپنی بہن سے قرآن سننے کا موقع ملا اور چند آیتیں ہی کان میں پڑیں تو ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگ