تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 208
یہ باتیں کرہی رہے تھے کہ میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے چھوڑیں بھی آپ یہ کیا باتیں کررہے ہیں۔مجھے دس آیتیں ایسی لکھ دیجئے جن میں حیاتِ مسیح کا ذکر آتا ہو۔میں قادیان گیا تھا اور مرزا صاحب سے یہ منواکر آیا ہوں کہ اگر میں دس آیتیں ایسی لے آیا تو وہ اپنے دعویٰ سے دست بردار ہوجائیں گے۔اس لئے ان جھگڑوں کو رہنے دیجئے اور جلدی سے مجھے دس آیتیں ایسی لکھ دیجئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر قرآن سے حیات مسیح ثابت ہوگئی تو پھر آپ کو شاہی مسجد لاہور میں اپنے عقیدہ سے توبہ کرنی پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں مجھے یہ شرط منظور ہے۔میاں نظام الدین صاحب اس پر بڑے خوش تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب سے بھی انہوں نے کہا کہ آپ یہ کیا بحث مباحثہ لیے بیٹھے ہیں۔مجھے دس آیتیں لکھ دیجئے میں ابھی مرزا صاحب کو لاہور لا کر شاہی مسجد میں ان سے توبہ کرادوں گا۔مولوی محمد حسین صاحب جو اسی وقت اپنے ساتھیوں میں فخر کررہے تھے کہ میں نے نورالدین کویوں پکڑا اورمیں نے اسے یوں رگیدا، انہوں نے جب یہ بات سنی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور انہوں نے کہا احمق! تجھے کس نے کہا تھا کہ بیچ میں دخل دیتا۔میں دو مہینے بحث کر کر کے اس مضمون کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر قرآن کی طرف لے گیا۔وہ آدمی تھے نیک جونہی یہ الفاظ ان کے کان میں پڑے ان پر سناٹا سا چھاگیا۔تھوڑی دیر وہ خاموش رہے جیسے انسان کسی نئے صدمہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور پھر ایک آہ کھینچ کر کہنے لگے مولوی صاحب اگر یہی بات ہے تو پھر جدھر قرآن ہے ادھر ہی ہم ہیں۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوگئے(حیاتِ احمد جلد سوم صفحہ ۲۳۲تا ۲۳۵ مطبوعہ ۲۰۱۴ء)۔تو دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات چونکہ فطرت کے مطابق تھی میاں نظام الدین صاحب اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔یہی قرآنی تعلیم کا حال ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کو جو بھی حکم دیا ہے اس میں ہر قسم کی فطرت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص کہے کہ قرآن کا فلاں حکم ناقابل عمل ہے یا فطرت انسانی کے خلاف اس میں تعلیم دی گئی ہے۔ہر حکم اپنی ذات میں کامل ہے اور ہر حکم ایسا ہے جس پر آسانی کے ساتھ عمل کیا جاسکتا ہے۔لیکن باقی مذاہب میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف اوقات میں اپنے لئے حکومتوں سے کئی قسم کے قوانین نافذ کرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اُن خامیوں کا ازالہ ہوسکے جو ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ہندو بھی آج کل اسی رَو میں بہہ رہے ہیںاور وہ اپنے لئے ایسا لاء تیار کرنا چاہتے ہیں جو موجودہ زمانہ کے حالات کے مطابق ہو۔لیکن دراصل وہ جو کچھ کر رہے ہیں قرآن کی نقل ہے اور اگر کسی جگہ وہ اس تعلیم سے انحراف کریں گے تو لازماً ٹھوکر کھائیں گے اور اس