تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 205

تو وجہ کیا ہے کہ امراء اور دنیا کی عیاشیوں میں مبتلا انسان اپنی دولت کو قربان کرکے اس کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں؟ غرض ہر طبقہ کے لوگ علماء میں سے بھی، امراء میں سے بھی اور انگریزی دانوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمائے اور اس لئے عطا فرمائے تا اس اعتراض کا ازالہ ہو کہ آپ جاہل ہیں یا آپ دنیا دار ہیں یاآپ علم دین سے واقفیت نہیں رکھتے۔یہی حال ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھتے ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دیئے۔عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ مکہ کے چوٹی کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔اگر کوئی کہتا کہ ادنیٰ ادنیٰ لوگ اس کے ساتھ ہیں اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اس کو قبول نہیں کیا تو عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ اس کا جواب دینے کے لئے موجود تھے اور اگر کوئی کہتا کہ چند امراء کو اپنے اردگرد اکٹھا کرلیا گیا ہے۔غرباء جن کی دنیامیں اکثریت ہے انہوں نے اس مذہب کو قبول نہیں کیا تو زیدؓاور بلالؓ وغیرہ اس اعتراض کا جواب دینے کے لئے موجود تھے اور اگر بعض لوگ کہتے کہ یہ نوجوانوں کا کھیل ہے تو لوگ ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ابوبکرؓ تو نوجوان اور ناتجربہ کار نہیں۔انہوں نے کس بنا پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرلیا ہے؟ غرض وہ کسی رنگ میں دلیل پیدا کرنے کی کوشش کرتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہر شخص ان دلائل کو ردّ کرنے کے لئے ایک زندہ ثبوت کے طور پر کھڑا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال تھا۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔اے محمد رسول اللہ! کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ جن سامانوں سے دنیا جیتا کرتی ہے وہ سارے سامان ہم نے تیرے لئے مہیا کردیئے ہیں۔اگر دنیا قربانی کرنے والے نوجوانوں سے جیتا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔اگر دنیا تجربہ کار بڈھوں کی عقل سے ہارا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔اگر دنیا مالدار اور بارسوخ خاندانوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے شکست کھاتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں اور اگر عوام الناس کی قربانی اور فدائیت کی وجہ سے دنیا جیتا کرتی ہے تو یہ سارے غلام تیرے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں۔پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تو ہار جائے اوریہ مکہ والے تیرے مقابلہ میںجیت جائیں۔پس وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ کے معنے یہ ہیں کہ وہ بوجھ جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا وہ ہم نے خود اٹھالیا تو نے اس کام کی طرف نگاہ کی اور حیران ہوکر کہا کہ میں یہ کام کیونکر کروں گا۔خدا نے ایک دن میں ہی تجھے پانچ وزیر دے دیئے۔ابوبکرؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑ اکردیا۔خدیجہؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کردیا۔علیؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کردیا۔زیدؓکا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ورقہ بن نوفل کا