تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 204

تیرہ سال تک مصائب بھی آئے، مشکلات بھی آئیں۔تکالیف بھی آپ کو برداشت کرنی پڑیں۔مگر آپ کو اطمینان تھا کہ ان مکہ والوں میں سے عقل والے، سمجھ والے، رتبہ والے، تقویٰ والے، طہارت والے مجھے مان چکے ہیں اور اب مسلمان ایک طاقت سمجھے جاتے ہیں۔جب کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتا کہ وہ پاگل ہے تو اس کے دوسرے ساتھی ہی اسے کہتے کہ اگر وہ پاگل ہے تو فلاں شخص جو بڑا سمجھدار اور عقلمندہے اسے کیوں مانتا ہے؟ یہ ایک ایسا جواب تھا جس کے مقابلہ میں کوئی شخص بولنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔یوروپین مصنف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنا تمام زور بیان صرف کردیتے ہیں اور بسا اوقات آپ پر گند اچھالنے سے بھی دریغ نہیں کرتے مگر جہاں ابوبکرؓ کا نام آتا ہے وہ کہتے ہیں ابوبکرؓ بڑا بے نفس تھا۔اس پر بعض دوسرے یوروپین مصنف لکھتے ہیں کہ جس شخص کو ابوبکرؓ نے مان لیا وہ جھوٹا کس طرح ہوگیا۔اگر وہ بے نفس تھاتو اس نے ایسے لالچی کومانا کیوں؟ اور اگر وہ واقع میں بے نفس تھا تو پھر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کا آقا بھی بے نفس تھا۔یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے جس کو ردّ کرنا آسان نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ آپ کو جاہل کہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو ردّ کرنے کے لئے ایسے سامان کردیئے کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ شروع میں ہی آپ پر ایمان لے آئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی دعویٰ سے پہلے آپ کی تعریف کرنے والے تھے۔پھر جب آپ نے دنیا میں اپنی ماموریت کا اعلان کیاتو تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک جماعت اللہ تعالیٰ نے ایسی کھڑی کردی جو فوراً آپ پرایمان لے آئی۔یہ تعلیم یافتہ لوگ علماء میں سے بھی تھے، امراء میں سے بھی تھے اور انگریزی دان طبقہ میں سے بھی تھے۔رعب اور دبدبہ تین ہی چیزوں سے ہوتا ہے۔یا تو ایمان سے ہوتا ہے یا علم سے ہوتا ہے اور یا روپیہ سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تینوں چیزیں آپ کی جماعت میں پیدا کردیں۔ایسے لوگ بھی آپ کو دے دیئے جو اپنے اندر صلاحیت اور نور ایمان رکھتے اور چوٹی کے علماء سمجھتے جاتے تھے۔ایسے لوگ بھی آپ کو دے دیئے جو امراء میں سے تھے اور ایسے لوگ بھی آپ کو دے دیئے جو انگریزی دان تھے اور اس طرح نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ پر اچھا اثر ڈال سکتے تھے۔جب لوگ کہتے کہ مرزا صاحب جاہل ہیں تو ان کے اپنے آدمی ان کے مقابلہ میں کھڑے ہوجاتے اور کہتے اگر وہ جاہل ہے تو کالج کے سٹوڈنٹ اس کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں۔پھر جب لوگ کہتے کہ مرزا صاحب کو دین کی واقفیت نہیں تو ان کے اپنے بعض آدمی کہتے کہ اگر انہیں دین کی واقفیت نہیں تو علماء ان کے پیچھے کیوں بھاگے چلے جاتے ہیں۔پھر جب لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب دنیا پرست ہیں تو ان کے اپنے بعض آدمی کہتے ہیں کہ اگر وہ دنیا پرست ہے