تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 206

ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لئے کھڑا کردیا اور اس طرح وہ بوجھ جو تجھ اکیلے پر تھا وہ ان سب لوگوں نے اٹھالیا۔وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ میں قرآن کے دلکش ہونے کی طرف اشارہ اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی ہے جو آپ ہی آپ دلوں کو موہ لیتی ہے۔بعض تعلیمیں ایسی ہوتی ہیںجو بظاہر اچھی ہوتی ہیں مگر وہ ایسی فلسفیانہ باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں کہ ان کا سمجھنا لوگوں کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔وہی تعلیم ملک میںفوری طور پر مقبولیت حاصل کرسکتی ہے جو سمجھنے میں آسان ہو اور جس میں ہر فطرت کو ملحوظ رکھا گیاہو۔پس وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ میں ایک یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ تجھے اپنی تعلیم کا پھیلانا بڑا مشکل نظر آتا تھا مگر ہم نے اسے اس قدر دلکش اور اس قدر جاذبیت رکھنے والی بنایا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ تیری طرف کھچے چلے آتے ہیں۔عرب لوگ عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیتے تھے۔مگر قرآن کریم نے ان کے حقوق کو محفوظ کردیا۔عرب لوگ غلاموںکے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا کرتے تھے مگر اسلام نے ان کو ایسی سطح پر لاکر کھڑا کردیاکہ جس کے بعد دنیا میں کوئی غلامی نہیں رہتی۔عرب لوگ ورثہ کی تقسیم کے وقت جنبہ داری سے کام لینے کے عادی تھے اور وہ اپنے رعب کی وجہ سے لوگوں کے حقوق کو غصب کرلیا کرتے تھے مگر اسلام نے اس نقص کا بھی ازالہ کردیا اور تمام ورثاء کے حقوق شریعت میں مقرر کردیئے۔اب یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص بھی ایسی اچھی تعلیم کو سنے گا اس کادل پکاراٹھے گا کہ یہ تعلیم درست ہے۔پس فرماتا ہے اگر تیری تعلیم فلسفیانہ اور پیچیدہ ہوتی تو لوگوں کا تجھے قبول کرنامشکل ہوتا۔مگر ہم نے جو تعلیم تجھے دی ہے وہ فطرت کے عین مطابق ہے۔جو بھی پاکیزہ فطرت رکھنے والا انسان اس تعلیم کو سنتا ہے فوراً کہہ اٹھتا ہے اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔میں ایمان لایا اور میں اس کی صداقت کو قبول کرتا ہوں۔مجھے ایک لطیفہ ہمیشہ یاد آیا کرتا ہے۔لدھیانہ کے ایک دوست میاں نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے اورمولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی وہ دوست تھے۔جب انہوں نے مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کی زبان سے سنا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ مرزا صاحب تو بہت نیک آدمی ہیں معلوم ہوتا ہے لوگ ان پر غلط الزام لگاتے ہیں یا ان کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے ورنہ وہ قرآن کے خلاف ایسا دعویٰ دنیا کے سامنے کیوں پیش کرتے۔چنانچہ انہوں نے طے کیا کہ میں خود قادیان جائوں گا اور مرزا صاحب کو سمجھائوں گا کہ وہ اس قسم کا دعویٰ ترک کر دیں اور امید ظاہر کی کہ مرزا صاحب میری بات ضرور مان جائیں گے۔کیونکہ وہ قرآن کے خلاف کوئی بات اپنی زبان سے نہیں نکال سکتے۔اس فیصلہ کے بعد