تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 203

کرتے ہیں وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ ( طٰہٰ:۳۰) اور اس کے معنے اختلافی نہیں مسلمہ ہیں کہ موسٰی دشمنوں کی مخالفت کے خیال سے فوراً ہی ایک مومن کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کا بوجھ اٹھائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ خود فرما دیتا ہے کہ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔اس خبر کے مطابق وہ کون لوگ تھے جو آپ پر سنتے ہی ایمان لائے۔یقیناً یہی پانچ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔پس یہ پانچوں آپ کے وزیر تھے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تین آپ کی زندگی میں فوت ہوگئے کیونکہ حضرت ہارون بھی تو حضرت موسٰی کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔مگر فوت ہونے والوں کو نکال بھی دو تو بھی فوراً ایمان لانے والوں میں سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ دونو ں ہی ہیں اور دونوں ہی اس آیت کے ماتحت آپ کا بوجھ بٹانے والے ہیں ان میں سے کسی ایک کو برا کہنا قرآن کریم کی تکذیب اور تضحیک ہے۔ہم کئی مدعیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ادھر دعویٰ کرتے ہیں اور ادھر ان کے اپنے رشتہ دار انہیں پاگل کہنا شروع کردیتے ہیں۔بیوی کہتی ہے تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے، بیٹا کہتا ہے تو پاگل ہوگیا ہے، دوست کہتے ہیں تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔وہ تلاش کرتے ہیں کہ کوئی ان کو ساتھی ملے مگر نہیں ملتا۔بے شک بعض کو ان کے رشتہ داروں نے مانا بھی ہے مگر شروع میں اکثر ایسا ہی نظارہ نظر آتا ہے کہ ان کو ساتھی نہیں ملتے اور اگر ملتے بھی ہیں تو فاتر العقل۔مگر یہاں پہلے دن ہی یہ پانچوں شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا شکار ہوگئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تھی کہ وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ۔تو خدا تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو فوراً قبول نہیں کر لیا بلکہ فرمایا تم سفر کرتے چلے جائو جب مصر پہنچو گے تو وہاں تمہیں ہارون مل جائے گا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ دعا کرتے ہیں نہ سفر کرتے ہیں، نہ محنت اورمشقت برداشت کرتے ہیں اور پہلے دن ہی آپ کو پانچ وزیر مل جاتے ہیں۔یہی وہ حقیقی پنجتن ہیں جن سے اسلام کا آغاز ہوا۔بے شک جسمانی اولاد کے لحاظ سے پنجتن اور ہیں مگر روحانی لحاظ سے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی دن آپ کو پنجتن دے دیئے تھے جن میں سے ہر شخص آپ کا جاں نثار اور فدائی تھا۔پس فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا اور تیری مدد کے لئے وہ لوگ کھڑے کردیئے جنہوں نے تیرے بوجھ کے نیچے اپنے کندھے دے دیئے اور کہا یارسول اللہ ہم اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔پھر قریب زمانہ میں طلحہؓ اور زبیرؓ اور عمرؓ اور حمزہؓاور عثمان بن مظعونؓ اس قسم کے ساتھی آپ کو مل گئے۔جن میں سے ہر شخص آپ کا فدائی تھا، ہر شخص آپ کے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہانے کے لئے تیار تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ