تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 202
ہے خدا کی قسم دلیلیں نہ دیجئے صرف یہ بتائیے کیا یہ باتیں سچ ہیں اور آپ کی تصدیق کرنے پر کہتا ہے میرے سچے دوست میں آپ کی رسالت پر ایمان لایا۔آپ تو غضب ہی کرنے لگے تھے کہ دلیلیں دے کر میرے ایمان کو مشتبہ کرنے لگے تھے۔میرے دوست جس نے تیرے چہرہ کو دیکھا وہ کب تیری بات میں شبہ کرسکتا ہے(تاریخ الخلفاء للسیوطی: ابو بکر رضی اللہ عنہ )۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخالفت ہونی ہی چاہیے تھی کیونکہ بقول ورقہ بن نوفل کہ لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِـمِثْلِ مَا جِئْتَ بِہٖ اِلَّا عُوْدِیَ(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) یعنی جوشخص بھی ایسا پیغام لایا لوگوں کی مخالفت سے نہیں بچا۔مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر دیکھو کہ اس مخالفت کاطوفان آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپ کے ساتھی پیدا کردیئے۔ساکنینِ مکہ میں سے ایک ہی اسرائیلیات کا عالم ورقہ پہلے حملہ میں ہی آپ کے آگے گھٹنے ٹیک گیا۔رفیقہ حیات خدیجہؓ نے وحی سنتے ہی آپ کی بلائیں لیں۔نوعمر بھائی علیؓ جو ہر وقت آپ کے عائلی اخلاق کو دیکھتا تھا اپنی خدمات پیش کرنے لگا۔وہ آزاد غلام زید جس نے آپ کے لین دین اور غرباء سے سلوک کا گہرا اور لمبا مطالعہ کیا تھا آپ کی صداقت کی قسمیں کھانے لگا۔بچپن کا دوست، مکہ کا محسن، شرافت کا پتلا ابوبکرؓ صرف اتنا سن کر کہ آپ نے وحی کا دعویٰ کیا ہے اپنے گلے میںغلامی کا پٹکہ ڈال کر دروازہ پر آ بیٹھا۔اس عقیدت و اخلاص کے بے نظیر مظاہرہ نے آپ کے دل میں کس قدر خوشی نہ پیدا کردی ہوگی۔مکہ والوں کی ہا وہُو، ان کے طعنہ سن کر آپ کس طرح مسکرادیتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے یہ تمہارا فتویٰ ہے جو مجھے نہیں جانتے۔اب ذرا اس فتویٰ کو بھی تو سنو جو مجھے جاننے والوں نے دیا ہے۔کس طرح جانیں دے کر وہ میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔موسٰی نے دعا مانگ کر ایک وزیر بوجھ اٹھانے کے لئے مانگا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پانچ وزیر بن مانگے ہی دے دیئے اور ایسے وزیر جنہوں نے آپ کا بوجھ بٹانے میں کمال کر دکھایا۔ورقہ بے شک جلدی فوت ہوگئے مگر ایک نہ مٹنے والی شہادت آپ کی صداقت پر دے گئے۔حضرت خدیجہؓ نے بارہ سال تک اس کے بعد عورت ہوکر وہ کام کرکے دکھایا کہ بہادر سے بہادر مرد کی بھی آنکھیں نیچی ہوتی ہیں۔زیدؓ نے بیس سال تک اس کے بعد قربانی کا بے مثال نمونہ دکھایا اور آخر تلواروں کی دھاروں کے سامنے اپنا خون بہا کر ثابت کردیاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر کیسے ہونے چاہئیں۔ابوبکرؓ اور علیؓ تو آپ کی وفات کے بعد بھی رہے اور خلیفہ بن کر وزارت کا ایک نئے رنگ میں ثبوت دے گئے۔وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ میں شیعہ اصحاب کے خیالات کی تردید شیعہ اصحاب ذرا اس آیت پر غور کریں تو خلافت کے جھگڑے کافیصلہ ہوجاتا ہے۔اسی مفہوم کی آیت حضرت موسٰی کے بارہ میںآتی ہے وہ دعا