تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 199
کامیاب کرے گا اور میرے دشمنوں کو ناکامی کے گڑھے میں گرائے گا۔لوگ آپ کو گالیاں دیتے، آپ کو برا بھلاکہتے، آپ کے خلاف بڑے بڑے منصوبے کرتے مگر آپ ان کی ذرا بھی پروا نہ کرتے اور کبھی آپ کی زبان سے ان کے حق میں کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر راہ چلتے ہوئے کوئی شخص ان کے سامنے آجائے اور انہیں معمولی سی ٹکر لگ جائے تو وہ غیظ و غضب سے بھر جاتے ہیں اورکہتے ہیں تم دیکھتے نہیں تمہاری آنکھیں پھوٹی ہوئی ہیں! مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں مکہ فتح ہوچکا ہے، آپ کے غلبہ اور آپ کی شان اور آپ کی عظمت کا تمام عرب قائل ہوچکا ہے کہ اس حالت میں ایک اعرابی آتا ہے او رسختی سے کہتا ہے۔سارے لوگ اپنا اپنا حصہ لے گئے ہیںمجھے بھی مال غنیمت میں سے حصہ دو۔صحابہ نے اسے پکڑ کر ہٹایا کہ یہ کیا بیہودگی ہے جو تم کررہے ہو مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا فرمایا اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تمہیں ضرور دیتا مگر میرے پاس جو مال تھا وہ میں دے چکا ہوں اب میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا۔یہ قوتِ برداشت جو آپ کے اندر نظر آتی ہے یہ ایک ایسی بے مثال چیز ہے جس کا نمونہ ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتا۔آپ بے شک نصیحت بھی کرتے، لوگوں کو ا ن کی برائیوں سے منع بھی فرماتے اور ناراضگی کے موقع پر ناراضگی کا بھی اظہار فرماتے مگر طبیعت آپ کے قابو سے کبھی باہر نہیں ہوتی تھی۔پس اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو وسیع نہیں کردیا کہ تجھے گالیاں ملتی ہیں مگر تو ان کی پرواہ نہیں کرتا۔دکھ دیئے جاتے ہیں مگر تو ان کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتا۔تیرے اندر اس قدر قوتِ برداشت پیدا کردی گئی ہے کہ دشمنوں کے لئے مقابلہ اور ان کے متواتر مظالم پر بھی تیرے پائے استقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوتی۔وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ۰۰۳الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ۰۰۴ اور (ایسا کرکے) ہم نے تیرے (اس) بوجھ کو تجھ پر سے اتار دیا۔جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی۔حلّ لُغات۔اَلوِزْرُ اَلْوِزْرُ: اَلثِّقْلُ یعنی وِزْرٌ کے معنے بوجھ کے ہیں(اقرب)۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک فضیلت کامیابی کے لئے دوسری ضروری چیز انسان کو کام کرنے کے ذرائع کامیسر آجاناہے۔دل کا حوصلہ اور قوتِ برداشت کا پایا جانا بھی کامیابی کے حصول کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے مگر وہ پہلی چیز ہے۔دوسری چیز