تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 198

ہوکس طرح گیا؟ پھر تو چاہیے تھا آپ کا شرح صدر نہ ہوتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر آپ کا سینہ چاک کرکے دل دھویا گیا اور ادھر دنیا نے دیکھ لیا کہ ہر علم وفن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمات دیں جن کی نظیر اور کسی شخص میں نہیں ملتی۔علم کا کوئی شعبہ ایسانہیں جس میں قرآنی خیالات لے کر آپ نے ری فلیکٹرکے طور پر دنیا میںنہایت اعلیٰ اور بےعیب تعلیمیں پیش نہ کی ہوں۔جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیںتو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا سینہ چیرنے والا فرشتہ ہی تھا ورنہ خالی دل دھو دھا کر سینہ کے اندر رکھ دینے میں کیا کمال ہوسکتا تھا۔بات تو وہی رہی پہلے بھی دل میں خون آتا تھا اور اس کے بعد بھی دل میں خون نے ہی آنا تھا۔جو چیز اس واقعہ کو عظمت دیتی ہے وہ اس کا جسمانی نہیں بلکہ روحانی پہلو ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔کیا بچپن میں ہی ہم نے یہ نظارہ تجھے نہیں دکھادیا تھا اور ہم نے بچپن میں ہی تجھ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ ہم ایک دن تجھ میں بڑے بڑے کمالات پیدا کردیں گےـ؟ یہ تعبیر ہے جو اس کشفی واقعہ کی تھی اور جس نے بعد میں آپ کی صداقت کو آفتابِ نیم روز کی طرح ظاہرکردیا ورنہ ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ نعوذ باللہ آپ کے دل پر سیاہی تھی جسے فرشتوں نے دھودیا۔آپ کا دل پہلے بھی پاک تھا اس کو دھونے کے معنے یہ تھے کہ ہم نے نئی قابلیتیں اور علوم کی نئی وسعتیں تیرے اندر پیدا کردی ہیں۔یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کے دل پر نعوذ باللہ کوئی گند لگا ہوا تھا جسے انہوں نے دھودیا۔آنحضرت صلعم کی بے مثال قوت برداشت ایک معنے اس آیت کے یہ بھی ہیں کہ ہم نے تیرے اندر قوت برداشت پیدا کردی ہے۔چنانچہ شرح صدر کے الفاظ اسی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ کسی چیز پر آپ کو تنگیٔ نفس پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ جو بات آتی آپ اس کو برداشت کرلیتے اور کہتے ہر چہ از دوست مے رسد نیکو است آپ جانتے تھے کہ میرے ساتھ جو معاملہ ہے وہ خاص قانون کے ماتحت ہے میں خدا تعالیٰ کے کامل تصرف کے ماتحت ہوں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوگا خواہ وہ بظاہر برا ہو میرے لئے انجام کار اچھا ہوگا۔اسی وجہ سے آپ مصائب اور مشکلات میں گھبراتے نہیں تھے۔پس اس آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ تیرے اندر قوت برداشت کمال درجہ کی پید اہوچکی ہے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی قسم کے مشکلات آئے، کئی قسم کے مصائب سے آپ کو دوچار ہونا پڑا مگر آپ پر کبھی گھبراہٹ طاری نہیں ہوئی ایسے اطمینان سے آپ نے ان مشکلات کو برداشت کیا۔جیسے آپ کو یقین تھا کہ یہ سب کچھ میرے حق میں ہے خدامیرا دوست ہے دشمن نہیں۔وہ مجھے