تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 200

جس کا انسانی کامیابی کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے یہ ہے کہ انسان کو کام کرنے کے ذرائع مہیا ہوجائیں۔اس معاملہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔جس طرح پہلی آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ کے مقابل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔اسی طرح وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ میں ماضی کے الفاظ استعمال کرکے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آپ کی ایک فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ (طٰہٰ: ۳۰) اے میرے رب میرے اہل میں سے کوئی میرا بوجھ بٹانے والا پید اکر دے۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا شخص مانگنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جو ان کا بوجھ بٹانے والا ہو۔مگر اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ہم نے بغیر تیرے مانگنے کے تجھے ایسے ساتھی عطا کردیئے ہیں جو تیرے بوجھ کو صرف بٹانے والے نہیں بلکہ سارا بوجھ اپنے آپ پر اٹھانے والے ہیں۔انہوں نے تیرے اوپر سے وہ سب کا سب بوجھ اٹھالیا ہے جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنا بڑا بوجھ تھا جس کو کوئی اکیلا شخص اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔آپ کے سپرد یہ کام تھا کہ آپ ساری دنیا کی اصلاح کریں۔ساری دنیا کو اسلام میں داخل کریں۔ساری دنیا کی بدیوں اور عیوب کا قلع قمع کریں۔آپ دیکھتے تھے کہ میں اکیلا ہوں نہ میں ہر شخص کے پاس پہنچ سکتا ہوں اور نہ ہر شخص کو منوانے کی طاقت رکھتا ہوں۔ایک ایک آدمی کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے بظاہر کئی کئی سال چاہیےتھے کیونکہ ان کے عقائد اور اسلام کی پیش کردہ تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔وہ کئی کئی بتوں کو مانتے تھے اور قرآن کہتا تھا کہ بت اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتے وہ جھوٹ اور فریب اور دغا اور خیانت اور ڈاکہ اور قتل اور اسی قسم کے دوسرے افعال کو جائز سمجھتے تھے اور اسلام ان سب کوناجائز اور حرام قرر دیتا تھا۔وہ عبادت سے کوسوں دور بھاگتے تھے اور اسلام انسان کو ہر وقت الٰہی آستانہ پر جھکے رہنے کی تعلیم دیتا تھا۔غرض تعلیم میں اختلاف تھا، عبادت میں اختلاف تھا، رسم و رواج میں اختلاف تھا، مطمح نظر میں اختلاف تھا۔پھر مکہ والے الہام کے قائل نہیں تھے مگر قرآن نزولِ الہام کا قائل تھا۔اسی طرح وہ خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں کے قائل نہیں تھے مگر قرآن اس بات کا قائل تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نشانات سے اپنی ذات کا ثبوت دیا کرتا ہے۔پھر وہ اس بات پر دن رات فخر کیا کرتے تھے کہ ہم آزاد ہیں کسی کے ماتحت نہیں۔مگر قرآن کی تعلیم یہ تھی کہ سب ایک ہاتھ پر جمع ہوجائو اور منظم ہوکر اپنی اور