تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 197

نفسانی خواب ہے تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔بعض لوگوں کے کان میں سوتے ہوئے چیونٹی گھس جاتی ہے تو وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ توپیں چل رہی ہیں، لڑائیاں ہورہی ہیں، ڈھول بج رہے ہیں اور دنیا میں ایک شور برپا ہے یا بعض دفعہ کان میں میل پھنسی ہوئی ہوتی ہے ایسی حالت میں جب ہوا کان کی میل سے ٹکراتی ہے تو سویا ہوا انسان دیکھتا ہے کہ بجلیاں چمک رہی ہیں، بادل کڑک رہے ہیں، اولے برس رہے ہیں اور دنیا پر بڑی تباہی آئی ہوئی ہے۔حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ میل کا ایک ذرہ اس کے کان میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح سوتے سوتے کسی کو بھڑ کاٹ جائے اور وہ گہری نیند سورہا ہو تو وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ میرا سر بڑا ہوگیا۔اب اس کی یہ تعبیر نہیں ہوگی کہ وہ بڑا عقل مند ہوجائے گا بلکہ اس خواب کا صرف اتنا مطلب ہوگا کہ سوتے ہوئے اسے بھڑ نے کاٹ لیا تھا جس کا اس کے اندرونی شعور نے اسے اس رنگ میں نظارہ دکھایا۔قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مرزا صاحب کو بھی بے شک الہام ہوتا ہے کہ تجھے ہم نے بڑا درجہ دیا ہے مگر مجھے بھی خدا تعالیٰ روزانہ کہتا ہے کہ تو موسیٰ ہے، تو عیسیٰ ہے، تو محمد ہے۔لوگوں نے اسے بہت کچھ سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔آخر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اس کا ذکر کردیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اسے ہمارے پاس لائو یا آپ نے فرمایا اس سے سوال کرو(مجھے اس وقت اچھی طرح یاد نہیں) کہ جب خدا تم سے کہتا ہے کہ تم عیسیٰ ہو تو کیا عیسیٰ کی طرح تمہیں خلقِ طیر کا نشان بھی ملتا ہے یا تمہارے ہاتھ سے بھی اسی طرح مردے زندہ ہوتے ہیں جس طرح عیسیٰ کے ہاتھ سے زندہ ہوتے تھے یا جب خدا تمہیں موسیٰ کہتا ہے تو کیا موسیٰ کی طرح یدبیضا کا نشان بھی تمہیں عطا کرتا ہے یا جب محمدؐ کہتا ہے تو کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مقام جو دَنَا فَتَدَلّٰى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ( الـنّجم:۹،۱۰) میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی تمہیں ملتا ہے یا تمہیں وہی فصاحت اور وہی بلاغت عطا کی جاتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی؟ وہ کہنے لگا ملتا تو کچھ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تو پھر وہ خدا نہیں بلکہ شیطان ہے جو تمہیں روزانہ عیسٰیؑ اورموسٰی اور محمدؐ کہتا ہے۔اگر خدا تمہیں یہ مقام عطا کرتا تو تمہیں اس مقام سے تعلق رکھنے والے انعامات بھی دیتا۔اسی طرح ایک دوسرا شخص بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس کا سینہ چیرا گیا اور دل دھو کر دوبارہ اس کے اصل مقام پر رکھ دیا گیا۔مگر فرق یہ ہوگا کہ اس کا سینہ پھر بھی تنگ ہی رہے گا۔مگر جس کا خدا دل دھو کر اس کے سینہ میں رکھ دے گا اس کا سینہ پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ وسیع ہوجائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق آپ کے رضاعی بھائی نے جو شہادت دی اگر وہ بات جھوٹی ہوتی تو سوال پید اہوتا ہے کہ آپ کا شرح صدر