تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 196

درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا وہ ایک کشف تھا۔کشفی حالت میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کا سینہ چاک کرکے دل نکالا اور اسے دھو دھا کر پھر اندر رکھ دیا۔بے شک ظاہر میں اس واقعہ کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا مگر خواب یا کشف کی حالت میں اس قسم کے واقعہ کو تسلیم کرنا ہرگز بعید از قیاس نہیں۔خواب میں ایک چھوڑ دس دل بھی سینوں میں سے نکال کر دھوئے جاسکتے ہیں اور اس میں کسی تعجب کی بات نہیں سمجھی جاسکتی کیونکہ خواب ہمیشہ تعبیر طلب ہوتا ہے۔ہم خواب میں زید کے دس سر دیکھ سکتے ہیں حالانکہ ظاہری لحاظ سے کسی کے دس سر نہیں ہوسکتے۔خواب چونکہ تعبیر طلب ہوتاہے اس لیے اگر ہم کسی کے دس سر دیکھیں تو اس کے حالات کے مطابق اس کی دو تعبیریں ہوں گی۔یاتو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ اس کے اندر استقلال نہیں پایا جاتا اور یا پھر یہ تعبیر ہوگی کہ اس کی عقل وسیع ہے۔اگر اس کے حالات اس کی اخلاقی جرأت کا ثبوت ہوں تو دس سر دیکھنے کی اچھی تعبیر ہوگی۔اور اگر اس کے حالات اس کے خلاف ہوں تو دس سر دیکھنے کی بری تعبیر ہوگی۔بری تعبیر تو یہ ہوگی کہ اس کے اندر استقلال کا مادہ نہیں پایا جاتا۔ایک سر ایک دفعہ بات کرتا ہے دوسرا سر دوسری دفعہ بات کرتاہے۔ایک دفعہ وہ ایک رائے قائم کرتا ہے اور دوسری دفعہ دوسری رائے قائم کرتاہے اور اچھی تعبیر یہ ہوگی کہ وہ بڑا عقلمندہے۔لوگ ایک سر سے کام لیتے ہیں اور وہ دس سروں سے کام لیتا ہے۔پس کسی کے دس سر دیکھنا یا تو اس کے تدبر اور اعلیٰ درجہ کے دماغ کا ثبوت ہوگا اور یا پھر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ دس دفعہ اپنی رائے بدلتا ہے اس کے اندر استقلال کا مادہ نہیں۔پس ایک ہی خواب کی اچھی تعبیر بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی اور یہ تعبیر دیکھنے والے کے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔اسی طرح اگر رئویا یا کشف کی حالت میں کوئی شخص اپنے دس دل دیکھے تو یہ بھی ہوسکتا ہے جس طرح وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کا دل سینہ میں سے نکالا گیا اور اسے فرشتہ نے دھوکر پھر اس کی اصل جگہ پر رکھ دیا۔غرض عام مسلمانوں کو تمام دھوکا کشف کی حقیقت کونہ سمجھنے کی وجہ سے لگا ہے ورنہ کشفی حالت میں دل پر سیاہی بھی دیکھی جاسکتی ہے اور کشفی حالت میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ دل میں نور بھر دیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہوگا کہ اگر جھوٹی خواب ہو توگو انسان بہت کچھ دیکھتا ہے مگر اسے ملتا کچھ نہیں لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خواب دکھایا جائے تو فوراً انسان کو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی مل جاتا ہے۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ کسی کو دکھائے کہ اس کا سر بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہوگیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے بہت بڑا علم مل جائے گا اور اس کی عقل بہت وسیع ہوجائے گی(تعطیر الانام فی تعبیر المنام زیر لفظ ’’رأس‘‘)۔اب اگر یہ خدائی خواب ہے تو چند دنوں کے بعد ہی اسے نظر آئے گا کہ اس کے علم اور اس کی ذہانت میں ترقی ہورہی ہے۔لیکن اگر