تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 189
زمینیں ایسی ہوتی ہیں جو بعض پھلوں کو اگانے کی مخصوص طور پر اپنے اندر قابلیت رکھتی ہیں اسی طرح قرآن کے لئے سب سے بہترین زمین جو الٰہی ہاتھوں سے تیار کی گئی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سینہ تھا۔قرآن کا جو درخت وہاں پیدا ہوسکتا تھا وہ اور کہاں پیدا ہوسکتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اور بھی بعض اچھے درخت ہوئے ہیں مگر بہرحال وہ سب کے سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اظلال ہوں گے۔کامل تابع ہو یا ادنیٰ سے ادنیٰ تابع، دونوں اپنی اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق قرآن کریم کا پھل دنیا کے سامنے رکھیں گے۔کامل تابع جس پھل کو لوگوں کے سامنے رکھے گا وہ اور قسم کا ہوگا اور ادنیٰ تابع جس پھل کو لوگوں کے سامنے رکھے گا وہ اور قسم کا ہوگا۔جیسے لنگڑے آم کی گٹھلی جہاں بھی بودو کچھ نہ کچھ اگ آئے گا مگر اس کی خوبی زمین کی قابلیت کے مطابق ہوگی۔اعلیٰ زمین ہوگی تو اعلیٰ درجے کا لنگڑا آم ہوگا اور ادنیٰ زمین ہوگی تو ادنیٰ درجے کا لنگڑا آم ہوگا۔بہرحال اعلیٰ درجہ کی پیداوار اعلیٰ درجہ کی زمین کی متقاضی ہوتی ہے۔امریکن کپاس لائل پورمیں ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں نہیں ہوتی۔ایجپشن کاٹن مصر میں اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں اگر یہ کپاس بوئی جائے تو اس میں سفیدی کم آتی ہے۔سٹیپل STAPLE بہت تھوڑا ہوتا ہے اور بونے والا کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ سفیدی کم ہو تو اعلیٰ درجے کا کپڑا تیار نہیں ہوسکتا اور اگر مضبوطی کم ہو تب بھی لوگ اس کپاس کونہیں خریدتے کیونکہ اس روئی سے تیار کردہ کپڑا بہت جلد پھٹ جاتا ہے۔غرض مختلف قسم کی اشیاء کے لئے مختلف قسم کی زمینیں ضروری ہوتی ہیں۔جس طرح آموں کے لئے ملیح آبادمشہور ہے اور سنگتروں کے لئے ناگپور یا جس طرح زعفران دنیا میں صرف چند محدود علاقوں میں پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر قرآن پیدا ہوتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔اَلَمْ نَشْرَحْ میں شَـرَحَ کے معنے ہل چلانے اور پھاڑنے کے شَـرَحَ کے معنے پھاڑنے اور ہل چلانے کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے آیت کایہ مطلب ہوگا کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم نے تیرے سینہ میں قرآن لگانے کے لئے ہل چلائے ہیں یا نہیں؟ جس طرح مادی اشیاء کےلئے مناسب حال زمین کو تلاش کیاجاتا ہے اسی طرح ہم اپنے قرآن کے لئے اسی زمین میں ہل چلا سکتے تھے جو قرآن کے مناسب حال ہو۔سو ہمیں وہ مناسب حال زمین تیرا سینہ دکھائی دیا اور ہم نے اس میں ہل چلا دیا اب دنیا دیکھے گی کہ اس میں سے کیسے شاندار پھل پیدا ہوتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ جیسا بیج بونے والا ہو، خدا تعالیٰ جیسا ہل چلانے والا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ جیسی زمین ہو تو اس کھیتی کی برتری کا کون انکار کر سکتا ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَـمِیْدٌ مَّـجِیْدٌ۔