تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 190

غرض اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَکے ایک معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم کے نزول کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا علم لدنی بخشا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ آپ ہر علم کو فوراََ قبول کر کے اس کی وسعتوں کے انتہا تک پہنچ جاتے تھے اوراس سے استنباط اور تفقّہ کر کے مسلمانوں کو علم دین سکھاتے۔یہ وسعت بھی عجیب قسم کی ہے جو کتاب آپ کو ملی وہ ایسی عظیم الشان ہے کہ کوئی فن اور کوئی علم نہیں جو اس میں نہ پایا جاتا ہو۔اس میں اقتصادیات کے اصول بھی ہیں، اس میں تمدن کے اصول بھی ہیں، اس میں سیاست کے اصول بھی ہیں، اس میں علم العائلہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، اس میں میراث کے مسائل بھی بیان کئے گئے ہیں، اس میں علم الاخلاق کی باریکیاں بھی بیان کی گئی ہیں، اس میں علم العبادات کو بھی نمایاںطور پر پیش کیا گیا ہے، اس میں علم المعاملات کو بھی پوری تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔غرض علم کی کوئی شاخ انسانی ذہن میں ایسی نہیں آسکتی جو مذہب سے براہ راست تعلق رکھتی ہو اور اس میں تفصیلی احکام موجود نہ ہوں اورجو شاخ براہ راست تعلق نہ رکھتی ہو اس کے متعلق اجمالی علم اس کتاب میں موجود نہ ہو۔ایسی کتاب کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ کا کھول دیا جانا خود ایک غیر معمولی بات ہے۔اوّل تو جو کتاب آپ کو ملی وہ غیر معمولی ہے اور وہ تمام علوم کی جامع ہے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص ہوشیار اور سمجھدار تھا۔اقتصادی مسائل سے گہری دلچسپی رکھتا تھا۔اس نے علم الاقتصاد کی کوئی کتاب پڑھی اور اس کے سینہ میں اس علم کے چشمے پھوٹ پڑے۔یہ بھی ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص سیاسی معلومات کا شوق رکھتا اور بوجہ اس کے کہ سیاسیات سے اس کی طبعی مناسبت تھی جب اس نے کسی سیاسی کتاب کو پڑھا تو اس کے سینہ میںوسعت پیدا ہوگئی اور سیاست کے متعلق نئے سے نئے مضامین اس کے ذہن میں آنے شروع ہوگئے۔یہ بھی قیاس میں آسکتا ہے کہ کوئی شخص قضاء سے دلچسپی رکھتا تھا قضائی امور اس کے سامنے پیش آگئے اور چونکہ اس کی نفسی مشابہت قضاء کے ساتھ تھی قضائی معاملات میں اس کا دماغ تیز ہوگیا اور وہ کہیں سے کہیں جاپہنچا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ کوئی شخص فوجی طبیعت رکھنے والا تھا اس نے ملٹری کے قواعد و ضوابط کے متعلق کوئی کتاب پڑھی یا دشمنوں کے ساتھ تعلقات کا وسیع مطالعہ کیا تو اس کے دل میں اور بھی کئی قسم کی نئی باتیں اس کے متعلق پیدا ہوگئیں۔یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شخص علم العائلہ کا واقف تھا جب اس نے کوئی ایسی کتاب پڑھی جس میں خاندانوں کے متعلق قوانین بیان کئے گئے تھے جس میں باپ اور بیٹے، خسر اور داماد، میاں اور بیوی، دوست اوردوست کے متعلق ہدایات دی گئی تھیں اور پھر خود بھی اس نے ان تعلقات پر غور کیا تو چونکہ اس علم سے اسے ذاتی مناسبت تھی اس کے متعلق نئے سے نئے علوم اس کے دماغ میں آنے لگ گئے۔غرض ہم یہ تمام باتیں اپنے قیاس میں لا سکتے ہیں۔مگر