تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 188

کا کہیں لے جائے۔ایک شخص ایسا ہوتا ہے جسے اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنے الفاظ ہوتے ہیں مگر ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو تھوڑے سے الفاظ سے بہت بڑا علم حاصل کرلیتا ہے اور بات کو پھیلا کرکہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔اسی کو تَفَقُّہ کہتے ہیں جو ایک نہایت قیمتی چیز ہے۔بعض لوگ اسلامی تعلیمات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ فلاں حکم تو قرآن کریم میں نہیں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں سے نکال لیا۔وہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تَفَقُّہ کا مادہ تھا مگر تم میں تَفَقُّہ کا مادہ نہیں۔تمہیں وہ علوم کس طرح حاصل ہوں جو قرآن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگئے۔بے شک جہاں تک حقیقت کا سوال ہے میں چکڑالویوں سے بالکل متفق ہوں مگر جہاں تک تشریح کا سوال ہے میں ان کو پاگل سمجھتا ہوں۔یہ تو صحیح ہے کہ قرآن سے باہر کوئی چیز نہیں مگر یہ بکواس ہے کہ عبداللہ چکڑالوی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک جیسا قرآن سمجھتے تھے۔ہم اپنے اوپر قیاس کرکے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں۔ہزاروں ہزار قرآنی نکات اور باریکیاں ہیں جو اور لوگوں پر نہیں کھلیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر کھول دیں۔اگر ہم پر قرآن کریم کے ایسے ہزاروںاسرار کھل سکتے ہیں جو کروڑوں کروڑوں لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رہے تو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم سے کروڑوں درجے زیادہ قرآن کریم کے معارف نہیں کھل سکتے تھے؟ پھر ہم یہ کیوں فرض کرلیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فلاں حکم دیا تھا وہ قرآن میں موجود نہیں۔قرآن مجید کا درخت لگانے کے لئے آنحضرت صلعم کا سینہ بہترین زمین کی طرح یہ آیت اس امر پر شاہد ہے کہ قرآن کریم کی گٹھلی کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ بمنزلہ اعلیٰ زمین کے تھا اس میں وہ گٹھلی لگ کر فوراً اپنے آپ کو پھیلانے اور بلند کرنے لگ گئی تھی اور جو چیز لوگوں کےلئے گٹھلی تھی آپ کے سینہ میں وہ ایک وسیع اور بلند درخت تھی۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو دماغ عطا فرمایا تھا وہ بہرحال ہم سے اعلیٰ تھا اس لئے جس رنگ میں آپ قرآن کو سمجھ سکتے تھے اس رنگ میں دنیا کا اور کوئی شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا تھا۔دیکھو اس مادی دنیا میں بھی بیج ہمیشہ زمین کی قابلیت کے مطابق اگتاہے۔کھجور ہمارے علاقہ میں نہیں ہوتی لیکن عرب میں ہوتی ہے کیونکہ کھجور کے لئے عرب کی زمین زیادہ مناسب ہے۔اسی طرح خربوزہ ہے۔یہ بھی ہر جگہ اچھا نہیں ہوتا بلکہ بعض جگہ اچھا ہوتا ہے اور بعض جگہ ناقص۔پنجاب میں چمیاری کا خربوزہ بہت اعلیٰ ہوتا ہے لیکن دوسرے مقاما ت کا خربوزہ ایسا اچھا نہیںہوتا۔جس طرح مادی پھلوں کے عمدہ یا ناقص ہونے کا دارومدار مختلف زمینوں پر ہوتا ہے اچھی زمین میں بیج ڈالاجائے تو اچھا پھل دیتا ہے اور ناقص زمین میں بیج ڈالاجائے تو ناقص پھل دیتا ہے اورپھر بعض