تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 185

قَوْمِیْ لَا یَعْلَمُوْنَ میرے اللہ ان کی اس بےہودگی پر ناراض نہ ہونا ان کو معلوم نہیں کہ میں آپ کی طرف سے پیغامبر ہوں (صحیح مسلم کتاب الـجھاد و السیر باب غزوۃ اُحد )۔کیا ہی نیکی کا یہ نمونہ ہے جو آپ نے دکھایا۔کیا ایسے موقعہ پر کوئی بھی اپنے جذبا ت کو دباکر رکھ سکتا ہے؟ منہ سے عفو کہنا الگ امر ہے مگر پتھرائو ہورہاہے، کتے پیچھے ڈالے جارہے ہیں اور ساتھ کے ساتھ آپ ان لوگوں کے لئے دعا کرتے جاتے ہیں۔یہ وہ نمونہ ہے جس کی مثال صرف خدا رسیدہ لوگوں میں ہی مل سکتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مقام سب سے بلند حاصل تھا اور اسی طرف اللہ تعالیٰ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سے اشارہ فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے تیرے سینہ کو ہر شر سے محفوظ کردیا ہے۔صرف نیکیاں ہی اس میں جاسکتی ہیں۔کیا یہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ اب دنیا کی اصلاح تیرے ہی ذریعہ سے ہوگی اور جس طرح شیطان کو تیرے سینہ میں دراندازی سے روکا گیا ہے اسی طرح تیرے ذریعہ سے وہ دوسروں کے سینوں میں دراندازی سے روکا جائے گا۔یہ دلیل کس قدر شاندار اور واضح ہے۔بینا ہی نابینائوں کی راہنمائی کرسکتا ہے۔ایک نابینا کس طرح راہنمائی کرسکتا ہے۔پس کامل راہنمائی دنیا کی ایسا ہی انسان کرسکتا ہے جس کا سینہ خدا تعالیٰ نے شیطان کے اثر سے محفوظ کردیا ہو اور جس کا سینہ شیطانی اثرات سے محفوظ ہو۔اس کی بات کا انکار نیکی کامیلان رکھنے والے کے لئے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ مقناطیس سے لوہا الگ نہیں رہ سکتا اور کندہم جنس باہم جنس پرواز۔انشراح صدر سے مراد حقائق اشیاء کے علم کے لئے دل کا کھل جانا تیسرے معنے شَـرَحَ کے سمجھانے کے ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے تیرے دل میں حقائق اشیاء اتار دیئے اور خود تیرا استاد بن کر تجھ کو سمجھایا۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھانے اور حقیقت بتانے والا خود اللہ تعالیٰ تھا۔اس مضمون کی حقیقت ظاہر ہی ہے جس کا خدا تعالیٰ استاد ہو وہی روحانی دنیا میں استاد ہو سکتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظاہر ہوئے ہیں اس وقت لوگ حقیقت روحانیہ سے بالکل نابلد ہوچکے تھے اور دنیا محتاج تھی کہ پھر نئے سرے سے اللہ تعالیٰ کسی کا استاد بن کر اسے دنیا کے لئے استاد بنائے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اورفرمایاگیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تیرے دل کو خود حقائق روحانیہ سے آگاہ نہیں کیا۔یعنی ایسا کیا ہے اور جب خدا تعالیٰ نے تیرے دل پر نازل ہوکر اسے حقائق اشیاء سے آگاہ کیا ہے تو پھر تیرے سوا اور کون ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے اور تو ناکام کس طرح رہ سکتا ہے کیونکہ شاگرد کی ناکامی استاد کی ناکامی ہوتی ہے۔تو ناکام رہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے جو تجھے سکھا کر دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا وہ ناکام