تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 184

انشراح صدر سے مراد حفاظت سینہ دوسرے معنے شَـرَحَ کے محفوظ رکھنے کے ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو تیرے لئے محفوظ نہیں کردیا۔سینہ یا دماغ جو چاہو کہہ لو (اس کے متعلق بحث اوپر گزرچکی ہے) انسانی تجارب کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے۔ہر کام جو انسان کرتا ہے وہ اس کے دماغ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ ذَنْبًا کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ فِیْ قَلْبِہٖ فَاِنْ تَابَ وَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُہٗ فَاِنْ زَادَ زَادَتْ حَتّٰی یُـغْلَفَ قَلْبُہٗ۔(تفسیر طبری سورۃ البقرۃ زیرآیت ختم اللہ علی قوبھم ) یعنی جب انسان کوئی کام کرتا ہے اگر نیک کام ہو تو اس پر ایک نیک نکتہ لگ جاتا ہے یعنی علاوہ اس نیک کام کا شرعی نتیجہ نکلنے کے اس کا ایک طبعی نتیجہ بھی نکلتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس شخص کے دل پر ایک نورانی نشان ڈال دیاجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ نیکیوں پر آئندہ زیادہ قادر ہوجاتا ہے اور جو کوئی بدی کرتا ہے اسے علاوہ شرعی سزاملنے کے ایک طبعی نتیجہ اس شکل میں ملتا ہے کہ اس کے دل پر ایک سیاہ داغ ڈال دیا جاتا ہے اور آئندہ اس کے لئے بدی کا ارتکاب آسان ہوجاتا ہے۔اسی طرح یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں یا دل سارا سفید ہوجاتا ہے یا سارا سیاہ۔اس نکتہ کی طرف بھی اس آیت میں اشارہ کیا گیاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تیرے فائدہ کے لئے ( لَكَ کا لام فائدہ کے معنے دیتا ہے) تیرا سینہ کھول دیا ہے یعنی وہ روحانی امور جو تیرے لئے نفع بخش ہوتے ہیں ان کے قبول کرنے کے لئے ہم نے تیرا سینہ محفوظ کردیا ہے یعنی اس کے خلاف بدی کی کوئی تحریک تیرے سینہ میں داخل نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تیرا سینہ نیکی کے لئے محفوظ رہنا چاہیے۔اس آیت کی تشریح خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی ہے اِنَّ اللہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ فَلَا یَاْمُرُنِیْ اِلَّا بِـخَیْـرٍ (صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین احکامھم باب تحریش الشیطان و بعثہ سـرایاہ) کہ میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے اور میرے دل میں صرف نیک تحریکات ہی ڈالتا ہے۔اس حدیث کے یہی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ کو آپ کے فائدہ والی چیزوں کے لئے محفوظ کردیا تھا۔ہر وہ چیز جو آپ کے لئے مضر ہواس میں داخل نہیں ہوسکتی تھی اور اگر کوئی بری بات آپ کے کان میں پڑے تو وہ نیک پہلو اختیار کرلیتی تھی۔جس طرح کہتے ہیں کہ ہر کہ درکانِ نمک رفت نمک شد۔یہ کتنا بڑا مقام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔آپ کے دل میں جو خیال آتا نیک ہی آتا۔اگر بدی آپ کے سامنے آتی تو وہ بھی نیک شکل اختیار کرلیتی۔طائف کے لوگوں نے جب آپ پر پتھر مارے۔کتے آپ کے پیچھے ڈال دیئے تو اس شرارت نے غم وغصہ آپ کے دل میں پیدا نہیں کیا بلکہ آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرنی شروع کردی کہ رَبِّ اِنَّ