تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 186
رہا اور یہ ہونہیں سکتا۔پس تو ضرور کامیاب ہوکر رہے گا۔آنحضرتؐکو علم خارجی کے علاوہ علم اندرونی کی موہبت اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کے ایک اورمعنے بھی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی بلندیٔ درجات کا ایک کھلا ثبوت ہیں اور وہ معنے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قسم کے علوم ہوتے ہیں۔ایک علم خارجی ہوتا ہے اور ایک علم اندرونی ہوتا ہے۔تکمیل علم کا انحصار انہی دو ملکوں پر ہوتا ہے اور یہ علم النفس کا ایک بہت بڑا نکتہ ہے جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ علم خارجی ہی اصل علم ہے۔حالانکہ علم خارجی بہت محدود علم ہوتا ہے اور وہ مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ علم اندرونی بھی شامل نہ ہو۔مثلاً میں اس وقت درس دے رہا ہوں اب اگر کوئی شخص ایسا ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ملکۂ ادراک بخشا ہو اور علم قرآن کا چشمہ اس کے سینہ میں پھوڑا ہو تو وہ میرے اس درس کو سن کر نہ صرف دوسروں تک یہ تمام باتیں پہنچا دے گا بلکہ وہ انہی باتوں کے کئی ایسے جدید پہلو بھی بیان کرسکے گا جو قلت وقت کی وجہ سے بیان نہیں کئے جاسکے۔اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ایسا بھی ہوسکتا ہے جو درس کو سن کر صرف اتنی قابلیت رکھتا ہو کہ اس درس کو من و عن بیان کردے اس میں یہ قابلیت نہیں ہوگی کہ وہ جدید پہلو اپنی ذہنی قابلیت سے نکال کر بیان کرسکے۔پھر کوئی ایسا ہوگا جو پورا درس بیان کرنے کی بھی قابلیت نہیں رکھے گا۔وہ جو کچھ بیان کرے گا اصل درس کا ۴ ۳ حصہ ہوگا اور کوئی ایسا ہوگا جو صرف آدھی باتیں بیان کرسکے گا اور کوئی ایسا ہوگا کہ اس سے پوچھو کہ درس میں کیا بیان ہوا تھا تو وہ کہہ دے گا قرآن کی کچھ تفسیر بیان کی گئی تھی مگر یاد نہیں رہی صرف اتنا یاد ہے کہ اچھا دلچسپ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں کچھ مدت تک سلسلہ تقاریر جاری رکھا۔ایک دن آپ کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ ہماری باتوں کو سمجھتی ہیں یا نہیں۔ایک عورت جو بڑی مخلصہ تھیں اور نابھہ کی رہنے والی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایاکہ کیا تم ہماری تقریریں سنتی رہی ہو۔اس نے کہا جی ہاںروزانہ تقریر سنتی رہی ہوں میںیہاں آئی ہی اس غرض کے لئے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اچھا بتائو میں کیا بیان کرتا رہا ہوں۔اس نے جواب دیا بس اللہ اور رسول کی باتیں تھیں اور کیا تھا۔یہ جواب جو اس عورت نے دیا اس کی وجہ یہی تھی کہ اندرونی علم اس کے اندر نہیں تھا۔اس نے صرف خارجی علم پر انحصار رکھا اور سمجھا کہ میں بہت کچھ سمجھ رہی ہوں حالانکہ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں رہی تھی۔تو اندرونی علم کے بغیر کبھی کوئی شخص کسی بات کو صحیح طور پر دوسروں تک نہیں پہنچاسکتا۔جب بھی کوئی بات بیان کی جاتی ہے ہمیشہ اس کے کچھ پہلو چھوڑنے پڑتے ہیں۔اگر سارے پہلو بیان کئے جائیں تو چند باتوں میں ہی عمر