تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 166

اسی طرح ہر چیز کے ابتدائی حصہ کو بھی صدر کہتے ہیں۔چنانچہ جب صَدْرُالنَّـھَارِ یا صَدْرُ الشِّتَآءِ یا صَدْرُ الصَّیْفِ کہتے ہیں تو اس کے معنے دن کے ابتدائی حصہ یا سردی یا گرمی کے ابتدائی ایام کے ہوتے ہیں (اقرب) گویا ایک لحاظ سے یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ہر چیز کی چوٹی کو بھی صدر کہتے ہیں اور ہر چیز کے ابتدائی حصہ کو بھی صدر کہتے ہیں جو بالعموم حقیقت کے لحاظ سے ادنیٰ ہوتا ہے جیسے صبح دوپہر سے کم روشن ہوتی ہے۔موسموں کے لحاظ سے جب سردی یا گرمی کا موسم شروع ہو یا بہار یا خزاں کے ایام آئیں تو وقت کے لحاظ سے موسم کا جو ابتدائی حصہ ہوتاہے اسے بھی صدر کہتے ہیں۔لیکن محاورہ میں صدر اس کو کہتے ہیں جو قوم کے نزدیک عزت کے قابل ہو یا اعلیٰ رتبے پر رکھے جانے کامستحق ہو۔ہماری زبان میں بھی یہ لفظ اعزاز کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں فلاں کوصدر مقام پر بٹھایا گیا۔یا فلاں کو صدر مجلس تجویز کیا گیا۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُسے عزت کے مقام پر کھڑا کیا گیا ہے یا لیڈری کا مقام اس کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔اسی طرح صدر سردار قوم کو بھی کہتے ہیں (اقرب) اور صدر دل کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ سینہ میں ہوتا ہے او رصدر کسی چیز کے حصہ کو بھی کہتے ہیں۔عرب کا محاورہ ہے اَخَذْتُ صَدْرًا مِّنْہُ۔میں نے اس میں سے ایک حصہ لے لیا (اقرب) انشراح صدر کا محاورہ اطمینان کو ظاہر کرنے کے لیے جہاں تک انشراح صدر کا تعلق سینہ سے ہے قطع نظر اس سے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہر ملک اور ہرقوم میں یہ دستور پایاجاتا ہے کہ ان میں سے جب کسی شخص کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے یا کسی حقیقت پر اس کا دل تسلی پاجاتا ہے تو ایسے موقع پر ہمیشہ اظہار اطمینان کے لئے وہ شرح صدر کا لفظ استعمال کرتاہے۔اردو میں بھی کہتے ہیںکہ فلاں بات کے لئے میرا سینہ کھل گیا۔یہ بات الگ ہے کہ کوئی ڈاکٹر کہہ دے کہ سینہ کا کسی بات کے سمجھنے سے کیا تعلق ہے سینہ تو ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کا نام ہے جس میں دل ہے، پھیپھڑا ہے، معدہ ہے، جگر ہے، گلے کی نالی ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کا کسی بات کے سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں۔بےشک طبی طور پر اسی کا نام صدر ہوگا مگر زبان کے لحاظ سے سینہ کھل جانے کے معنے ہوتے ہیں کسی بات پر اطمینان ہوگیا اور سینہ تنگ ہوجانے کے معنے ہوتے ہیں کسی بات پر اطمینان پیدا نہ ہوا یا غم کے سامان پید اہوگئے۔یہ سوال کہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے اس کی ذمہ داری زبان بنانے و الوں پر ہے مذہب پر نہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے زبان کی بحث مذہب میں بھی شروع کردیتے ہیں اور اس طرح خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔مثلاً ہماری زبان میں عام طور پر یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے کہ میرے دل میں فلاں بات آئی۔اس جگہ کوئی عقلمند انسان یہ سوال پیدا نہ کرے گا کہ بات دل میں آتی ہے یا دماغ