تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 165
میں شَـرَحَ صَدْرَہٗ کے الفاظ استعمال ہوں گے تو اس وقت بوجہ محل استعمال کے نہ کہ وضع لغت کے وہ معنے ہوں گے جوکہ علامہ راغب نے اس جگہ کئے ہیں۔تاج العروس عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب میں لکھا ہے شَـرَحَ کَمَنَعَ: کَشَفَ، شَـرَحَ مَنَعَ کے وزن پر ہے اور اس کے معنے ہیں کھول دیا۔کہتے ہیں شَـرَحَ فُلَانٌ اَمْرَہٗ: اَوْضَـحَہٗ۔فلاں شخص نے اپنا معاملہ خوب کھول کر رکھ دیا۔شَـرَحَ مَسْأَلَۃً مُّشْکِلَۃًـ: بَیَّنَـھَا اور جب کہیں کہ اس نے ایک مشکل مسئلہ کی شرح کی تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اسے کھول کر بیان کردیا اور حل کردیا پھر لکھا ہے وَ ھُوَ مَـجَازٌ۔یہ استعمال اس کا مجازاً ہے اس کے آگے اس لفظ کے اصل معنے جو وضع لغت کے مطابق ہیں یہ لکھے ہیں شَـرَحَ: قَطَعَ اللَّحْمَ عَنِ الْعُضْوِ قَطْعًا یعنی شَـرَحَ کے معنے ہیں گوشت کو عضو سے کاٹ کر الگ کردیا۔وَقِـــیْـــلَ قَـــطَـــعَ الــلَّحْمَ عَلَی الْعَظْمِ قَطْعًا۔ہڈی پر چھری مار مار کر گوشت کو الگ کردیا یعنی جس طرح پسندے بناتے ہیں کہ گوشت ہڈی سے چمٹا ہی رہتا ہے مگر پھول کی پنکھڑیوں کی طرح یا مخمل کے پھندوں کی طرح اوپر سے اس کے ٹکڑے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔گویا اس لفظ کے یہ بھی معنے ہیں کہ کاٹ کر الگ کردیا اور یہ بھی کہ ایک جہت سے گوشت آپس میں الگ ہوجائے اور ایک جہت سے ہڈی سے چمٹا رہے۔پھر لکھا ہے شَـرَحَ الشَّیْءَ کے ایک معنے فَتَحَ کے بھی ہیں اور اس کے معنے ہیں بیان کیا، کھولا (درحقیقت یہ معنے اوپر کے دو معنوں میں سے آخری معنوں میں سے مجازاً نکالے گئے ہیں یعنی ایک مجوف چیز کو ایک طرف سے کھول کر اس کے اندر جھانکنے یا اس کے اندر کوئی چیز ڈالنے کے لئے راستہ بنادیا) پھر لکھا ہے (امام لغت) ابن الا عرابی کے نزدیک شَـرَحَ کے معنے بیان اور فہم اور فتح اور حفظ کے ہیں۔یعنی واضح کرنا، سمجھانا، کھولنا اور محفوظ کرنا۔پھر لکھا ہے شَـرَحَ کے معنے ازالہ بکارت کے بھی ہوتے ہیں۔پھر لکھا ہے مجازی طور پر شَـرَحَ الشَّیْءَ کے معنے وَسَّعَہٗ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اسے پھیلادیا اور وسیع کردیا اور شرح صدر اسی قبیل سے ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ قبول حق یا قبول خیر کے لئے سینہ کو وسیع کردیا (یعنی دل میں حق کے قبول کرنے کے لئے انشراح پیدا ہوگیا اور حق کی طرف اسے رغبت ہوگئی۔جہاں سے بھی حق ملے اور جس قدر بھی ملے وہ اسے قبول کرنے کو تیار ہوتا ہے)۔اسی طرح کہتے ہیں شَـرَحَ اِلَی الدُّنْیَا وہ دنیا کی طرف مائل ہوا۔(تاج العروس) صَدْرٌ اور صَدْرٌ کے معنے ہوتے ہیں اَعْلٰی مُقَدَّمُ کُلِّ شَیْءٍ یعنی ہر چیز کے اگلے حصہ کی جو چوٹی ہو اسے صدر کہتے ہیں اور یوں حیوان یا انسان کے متعلق جب یہ لفظ بولا جائے توا س کے معنے ہوتے ہیں مَادُوْنَ الْعُنُقِ اِلٰی فَضَآءِ الْـجَوْفِ۔یعنی گردن سے لے کر پیٹ کے خلاء تک جسم کا جو حصہ ہوتا ہے اس کو صدر کہتے ہیں یعنی سینہ۔