تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 167

میں۔کیونکہ لغت نے اس فقرہ کے مفہوم کے ادا کرنے کے لئے یہی الفاظ وضع کئے ہیں اس لئے ہم ان کے استعمال پر مجبور ہیں۔لُغت یہی کہتی ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ میرے دل میں فلاں بات آئی توا س کے یہ معنے ہوتے ہیں اُسے ایک نیا خیال سوجھا اورجب بھی کسی شخص کو کوئی نئی بات سوجھتی ہے تو وہ یہی فقرہ استعمال کرتا ہے خواہ وہ جاہل ہو یا فلاسفی کا پروفیسر یا علم تشریح الابدان کا ماہر۔انشراح صدر کے متعلق ایک اعتراض اور اُس کا جواب رہا یہ سوال کہ وہ بات دل میں آتی ہے یا سرمیں آتی ہے یا پائوں میں آتی ہے زبان کے لحاظ سے ہمیں اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مگر بعض لوگ غلطی سے اس قسم کی بحث شروع کردیتے ہیں کہ تم کہتے ہو دل میں بات آئی۔دل میں بات کس طرح آسکتی ہے یا تم کہتے ہو سینہ کُھل گیا سینہ کس طرح کُھل سکتا ہے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔یہ تو سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو معنے کئے جاتے ہیں وہ عربی لغت کے لحاظ سے چسپاں ہوتے ہیں یا نہیں مگر یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اُن کا استعمال علم ڈاکٹری کے لحاظ سے درست ہے یانہیں کیونکہ اس کی ذمہ واری قرآن مجید پر نہیں بلکہ زبان بنانے والوں پر ہے۔اگر زبان میں کوئی فقرہ کسی خاص مفہوم کو اد ا کرنے کے لئے ایجاد کرلیا گیا ہے تو ہم پابندہیں کہ وہی فقرہ بولیں خواہ حقیقت سے وہ تعلق رکھتا ہو یانہ۔عام یوروپین ہی نہیں ایک اناٹومی کا پروفیسر اور ایک سائکالوجی کا پروفیسر بھی جب کسی تکلیف دہ امر کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ IT ACHES MY HEART یہ بات میرے دل کو تکلیف دیتی ہے حالانکہ احساس تکلیف دماغ کے حصۂ امتیاز میں ہوتا ہے نہ کہ دل کے گوشت میں۔اسی طرح جب وہ کسی تکلیف کااظہار کرتاہے تو کہتا ہے کہ MY HEART SANK میرا دل ڈوبنے لگا۔کیا اس پروفیسر کو یہ معلوم نہیںہوتا کہ دل دریا یا سمندر میں نہیں پڑا ہواکہ ڈوبنے لگا ہے۔وہ خوب جانتا ہے کہ سینہ میں کوئی کنواں کُھدا ہوا نہیں کوئی ندی نالہ جاری نہیں۔کوئی سمندر پھیلا ہوا نہیں۔مگر وہ ایسا کہنے پر مجبور ہے کیونکہ اُس کے بزرگوں نے اس خیال کو ادا کرنے کے لئے جو اُس نے بیان کرنا چاہا ہے یہی الفاظ مقرر کر چھوڑے ہیں۔بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ گزرتا ہے MY HEART SANK IN MY BOOTS میرا دل ڈوب کر جوتیوں تک چلا گیا۔اسی طرح ہر اناٹومی اور سائکالوجی کا پروفیسر جب یہ کہنا چاہتا ہے کہ میںنے یہ بات محسوس کی۔تو وہ کہتا ہے I FELT IN MY HEART۔میں نے اپنے دل میں فلاں امر محسوس کیا۔حالانکہ طبی طور پر اور علم النفس کے مطابق وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ محبت کا دل سے تعلق نہیں بلکہ دماغ سے تعلق ہوتا ہے۔مگر جب بھی الفاظ استعمال کرے گا یہی کرے گا کہ میں نے اپنے دل میں محبت یا فلاں بات