تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 113
سے دشمن کو چیلنج کیا کہ میں یہاں موجود ہوں اگر تم میں ہمت ہے تو آجائو۔وہ دشمن جس نے ایک ہزار سپاہی کو بھگا دیا تھا اس کی زبان سے اس وقت بھی شرک کا کلمہ سننا آپؐکی طاقت برداشت سے باہر ہو گیا جبکہ آپؐصرف چند صحابہ ؓ سمیت اس کی زد میںتھے اور زخموں کی وجہ سے کمزور ہو رہے تھے اور انتہائی نازک حالات کی پروانہ کرتے ہوئے آپ نے خدا کا نام اس وقت بھی بلند کر دیا۔یہ ایک رات تھی جو آپؐ پر آئی مگر اس رات سے کیا نتیجہ نکلا؟ یہی کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔آپؐکا خدا تعالیٰ سے تعلق اور بھی بڑھ گیا اور آپ نے کوئی ایسا فعل نہ کیا جس سے وہ ناراض ہوتا۔پھر ایک رات وہ تھی جبکہ غزوہ خندق کے موقع پر دشمن آیا۔اس نے اپنی طرف سے ساری تیاریاں کر لیں کہ وہ مسلمانوںکو زیر کرے گا اور ان کو شکست دے گا۔لیکن اس تاریکی کے وقت میںاتفاق کی بات ہے رات ہی تھی جب دشمن کو شکست ہوئی۔رات کا وقت تھا مسلمان بظاہر مایوس ہو چکے تھے، دشمن پندرہ دن سے ان کا محاصرہ کئے ہوئے تھا، خوراک وغیرہ کے سامانوں میں سخت کمی آچکی تھی، مدد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور مسلمان سخت گھبرا رہے تھے کہ نہ معلوم اب کیا بنے گا۔سامان اتنے کم تھے کہ مسلمان خود کہتے ہیں ہمارے ہاتھ پائو ں سردی سے سن ہو رہے تھے مگر ہمارے پاس کپڑے نہیں تھے کہ ہم ان کو اوڑھ کر اپنی سردی کو دور کر سکیں۔غرض یہی کیفیت تھی کہ ایک دفعہ آدھی رات کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ہے ! ایک صحابی ؓ بولے اور کہا یا رسول اللہ ؐ میںحاضر ہوں۔آپ ؐ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔جب تھوڑی دیر تک کوئی اور شخص نہ بولا تو آپ ؐ نے پھر فرمایا۔کوئی ہے! اس پر پھر وہی صحابی بولا کہ یارسول اللہ میںحاضر ہوں آپؐ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔جب دوسری دفعہ بھی کوئی اور شخص نہ بولا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کوئی ہے ! اس پر پھر وہی صحابی بولا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میںحاضر ہوں۔آپؐہنس پڑے اور فرمایا جائو اور باہر جا کر دیکھو مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ دشمن بھاگ گیا ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔غزوۃ الـخندق) اب دیکھو رات کو مسلمان سوتے ہیں تو انتہائی مایوسی کی حالت میںمگر ابھی صبح نہیں ہوتی، آدھی رات کا وقت ہوتا ہے، تاریکی چاروں طرف مسلّط ہوتی ہے کہ اس رات کی تاریکی میںاللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ دشمن بھاگ گیا ہے۔گویا تاریکی میں جہاں اور لوگ گھبرا رہے تھے آپؐخدا تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے تھے اور اس سے دعائیںکر رہے تھے۔وہ صحابی کہتے ہیں میں باہر گیا تو دیکھا کہ تمام جنگل خالی پڑا ہے اور دشمنوں کے خیمے سب غائب ہیں۔ایک اور صحابی کہتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ کوئی ہے ! تو میں اس وقت جاگ رہا تھا مگر شدت ِ سردی کی وجہ سے