تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 112

اوجھل ہو گئے اور لشکر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔یہ خبر صحابہ ؓ کے لئے اور بھی پریشان کن ثابت ہوئی اور ان کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی۔جو صحابہ ؓ اس وقت آپ کے ارد گرد موجود تھے اور زندہ تھے انہوں نے لاشوں کو ہٹا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گڑھے میں سے نکالا اور حفاظت کے لئے آپؐکے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔اس وقت جب دشمن اپنی فتح کے نشہ میں مخمور تھا، جب اسلامی لشکر سخت ضعف اور انتشار کی حالت میںتھا، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صرف چند صحابہ ؓ تھے، باقی سب کے سب میدان سے بھاگ چکے تھے۔ابو سفیان نے پکار کر کہا کہ بتائو کیا تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ صحابہ ؓ نے جواب دینا چاہا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاموش رہو اور کوئی جواب نہ دو۔پھر اس نے پوچھا کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ مراد اس کی یہ تھی کہ کیا حضرت ابو بکر زندہ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت جواب دو۔پھر اس نے پوچھا کیا تم میں عمر موجو د ہے؟ اس کا جواب دینے سے آپ نے منع فرما دیا۔تب اس نے خوش ہو کر کہا اُعْلُ ھُبُلْ اُعْلُ ھُبُلْ۔ہبل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو، یعنی آخر ہبل دیوتا نے ان لوگوں کو مار دیا اور اس کی شان بلند ہوئی جب اس نے یہ الفاظ کہے تو باوجود اس کے کہ ابھی ابھی دشمن صحابہ ؓکو نقصان پہنچا کر ہٹا تھا۔ابھی صحابہ ؓ میدان سے بھاگ رہے تھے بلکہ بعض تو ایسے بھاگے تھے کہ انہوں نے مدینہ جا کر دم لیاتھا۔غرض باوجو د اس کے کہ ایک حصہ بھاگا جا رہا تھا اور ایک حصہ پراگندہ اور منتشر تھا اور صرف چند صحابہ ؓ جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے جب اس نے یہ الفاظ کہے تو آپؐ برداشت نہ کرسکے اور آپ ؐ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم کیا جواب دیں۔آپ نے فرمایا کہو۔اَللہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔اَللہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ اُحد) تمہارا ہبل کیا چیز ہے اللہ ہی سب سے بلند رتبہ اور شان رکھنے والا ہے۔کہتے ہیں ’’آبیل مجھے مار‘‘ کئی ہزار کا لشکر سامنے پڑا ہے وہ فتح کے نشہ میں مخمور ہے۔مسلمانوں کا کثیر حصہ میدانِ جنگ سے واپس جا چکاہے اور دشمن دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہ کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔یہ کتنی تاریک رات تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی مگر اس تاریک رات میںبھی جب کہ صرف چند صحابہ ؓ آپ کے ارد گرد تھے اور خطرہ تھا کہ دشمن آپ پر پھر حملہ نہ کر دے۔جب اس نے ہبل کی تعریف کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو صحابہ ؓ کو مصلحتاً اب تک جواب دینے سے روکتے چلے آئے تھے بڑے جوش سے فرمانے لگے اس کو کیوں جواب نہیںدیتے کہ اَللہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔اَللہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔صحابہ ؓ نے یہ جواب دیا اور اس طرح آپؐنے اپنے عمل