تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 114

میرے ہاتھ پائوں تو الگ میری زبان بھی سن ہو چکی تھی اور اس وجہ سے میں جواب نہیں دے سکتا تھا، سنتا تھا مگر بولنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتا تھا کیونکہ کپڑے کافی نہ تھے اور برف پڑی ہوئی تھی(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔غزوۃ الخندق)۔یہ تکالیف آئیں مصائب وآلام کی گھڑیاں آپ پر گزریں مگر ان تمام لیالی میں ہر لیل کے وقت اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہے۔پھر ضُـحٰی کے اوقات بھی آپ پر آئے چنانچہ فتح مکہ کے بعد سارے عرب کی فتح آئی اور کامیابی و کامرانی آپ کے قدموں کو چومنے لگی مگر کامیابیوں کے اوقات نے بھی کیا ثابت کیا؟ یہی کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى لوگوں کہ یہ حالت ہوتی ہے کہ ترقیات کے وقت ان میں کبر پیدا ہو جاتا ہے فتح کے وقت نشۂ غرور ان میںسما جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قلبی کیفیات کا تم اس سے اندازہ لگائو کہ فتح مکہ کے وقت جب لشکر ِ اسلامی مکہ کی طرف بڑھتا چلا آرہا تھا صحابہ ؓ کے دلوں میںسخت جوش پایا جاتا تھا خصوصاً انصار کے دل میںمکہ والوں کے خلاف بہت زیادہ جوش تھا۔بے شک مہاجرین بھی اس جوش سے خالی نہیں تھے مگر مہاجرین پر ان کے مظالم کا اتنا اثر نہیں تھا جتنا انصار کو یہ سن سن کر جوش آتا تھا کہ مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ یہ یہ سلوک کرتے رہے ہیں۔اسی جوش کی حالت میں ایک انصاری جرنیل نے ابو سفیان کو دیکھا تو اس کی زبان سے یہ فقرہ نکل گیا آج ہم نے تم سے بدلے لینے ہیں، آج ان مظالم کا ہم نے انتقام لینا ہے جو مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر کئے۔کوئی اور ہوتا تو جرنیل کو بلا کر اسے تمغہ لگا دیتا اور کہتا شاباش! وفادار ایسے ہی ہوتے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا مکہ تو خدا تعالیٰ کا متبرک مقام ہے ہمیںاپنی خوشیوں اور کامیابیوں میں اس کی اس برکت کو نہیں بھول جانا چاہیے جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے۔تم نے بڑی غلطی کی جو ایسا فقرہ اپنی زبان سے نکالا۔میںتمہیں جرنیل کے عہدہ سے معزول کرتاہوں۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔ذکر فتـح مکۃ)۔دیکھو ایک ہی موقع آپ کی زندگی میں ایسا آیا جبکہ دشمن جو ایک لمبے عرصہ تک خطرناک سے خطرناک مظالم توڑتا رہا تھا اس کی گردنیں آپ کے ہاتھ میںتھیں۔ہو سکتا تھا کہ خود آپ کے دل میںہی یہ خیال آجاتا کہ میںان لوگوں سے آج خوب بدلہ لوں گا اور خود بھی ایسا فقرہ کہہ دیتے یا اگر خود نہ کہتے تواور کہنے والوں کی باتیں پسند کرتے یا اگر ظاہر میںپسند نہ کرتے تو دل میںہی پسند کرتے اور کہتے یہ لوگ میرے بڑے وفادار ہیں، مجھ پر جو مظالم ہوئے ان کا کس قدر ان میں احساس پایا جاتا ہے، کتنا جوش ہے جو ان کی حرکات سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہو رہا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جرنیل کے عہدہ سے ہی معزول کر دیا اور فرمایا ہمارے لئے یہ تکبر کے اظہار کا موقع نہیں۔