تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 109
بلکہ تو کہے گا کہ خدا تعالیٰ نے یہ انعام بخشا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی خفگی کو پاس بھی نہیںآنے دے گا۔اسی طرح جب تجھے تکلیفیں آئیں گی اس وقت بھی تو خد اپر کوئی الزام نہیںلائے گا۔بلکہ اسی کی کنار عاطفت کی طرف تو ہروقت جھکا رہے گا اور اس وجہ سے خد اتعالی تیرے پاس آکھڑا ہو گا۔اب دیکھو یہ دونوں چیزیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میںکتنی نمایا ں نظر آتی ہیں۔وہ بھی ایک لیل تھی جب آپ کو مکہ سے ہجرت کے لئے نکلنا پڑا اور غارِ ثور میںآپ پناہ گزیں ہوئے اور وہ بھی ایک لیل تھی جو آپ پر اس وقت آئی جب ابو طالب آپ کے چچا نے ایک دن آپ کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! اب تیری قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔آج بڑے بڑے رئوسا ء اکٹھے ہو کر میرے پاس آئے تھے اور وہ مجھے کہتے تھے کہ ابو طالب صرف تیری حفاظت کی وجہ سے ہم نے تیرے بھتیجے کو اب تک چھوڑا ہوا ہے۔ہم نے تیرا بڑا لحاظ کیا کیونکہ تو شہر کا رئیس ہے مگر آخر یہ ظلم کب تک برداشت کیا جاسکتا ہے۔ہم یہ نہیںکہتے کہ وہ ہمارے بتوں کی پرستش کرے بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کرے۔اگر وہ اتنی معمولی سی بات بھی ماننے کے لئے تیار نہ ہوا اور اس نے ہمارے معبودوں کو برا کہنا ترک نہ کیا تو ہم تجھے بھی سرداری سے جواب دے دیں گے اور آئندہ تیری کوئی عزت نہیںکریںگے۔نمبردار کے لئے اپنی نمبرداری چھوڑنی بڑی مشکل ہوتی ہے اور دنیا میںسب سے بڑی مصیبت اگر اسے نظر آتی ہے تو یہی کہ کہیں مجھے اپنی چودھرائت نہ چھوڑنی پڑے۔وہ اس بات کو برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ آج تو وہ اس شان کے ساتھ بیٹھا ہو کہ لوگ آتے ہوں اور کہتے ہوں چودھری صاحب آپ جو کچھ فرمائیںوہ ہمارے سر آنکھوںپر۔ہم آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار ہیں اور دوسرے دن اس کی یہ حالت ہو کہ لوگوں نے ڈنڈے اٹھائے ہوئے ہوں اور اسے کہتے ہوں کہ ہمارے گائوں میں سے نکل جائو۔ابو طالب چونکہ مسلمان نہیںتھے اس لئے ان کے لئے یہ بڑی مصیبت تھی۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا ان کی آنکھوں میںآنسو بھر آئے اور انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے مجھ سے جس قدر ہو سکا میںنے تیری مدد کی ہے مگر آج تیری قوم کے بڑے بڑے سردار مجھے بھی آخری نوٹس دے گئے ہیں کہ یا اپنے بھتیجے کے ساتھ رہو یا ہمارے ساتھ مل جائو۔وہ یہ نہیں چاہتے کہ تو ان کے بتوں کی پرستش کرے وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ تو ان کو برا کہنا چھوڑ دے میںتجھ سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسا نہیںہو سکتا کہ تو کچھ نرمی اختیار کر لے؟ورنہ وہ تجھے بھی نوٹس دے گئے ہیں اور مجھے بھی کہہ گئے ہیں کہ اگر آئندہ تو نے اپنے بھتیجے کی مدد کی تو تیری سرداری بند۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو بغیر کسی توقف کے آپ نے جواب دیا کہ اے چچا ! آپ نے میری بڑی مدد کی ہے مگر یہ معاملہ تو دین کا ہے اگر یہ لوگ