تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 108
فرماتا ہے تیری مکہ سے رات کے وقت ہجرت اس بات کا ثبوت ہو گی کہ خدا تعالیٰ نے تجھے نہیں چھوڑا اور تیرا دن دہاڑے مکہ میں فاتحانہ شان کے ساتھ داخل ہونا اس بات کا ثبوت ہو گا کہ خد ا تجھ سے خفا نہیں ہے۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے دوسرے معنے دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیںکہ ضُـحٰی روشنی اور سَجٰى اندھیرے پر دلالت کرتا ہے اور یہ دونوں حالتیں انسان پر آتی رہتی ہیں۔یعنی کبھی اس پرتکالیف آتی ہیں اور کبھی اس کے لئے خوشی کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں، کبھی کامیابیاں اور ترقیاں حاصل ہوتی ہیںاور کبھی ناکامیاں اور تکالیف پیش آتی ہیں یہ اتار چڑھائو دنیا میںہمیشہ ہوتا رہتا ہے کبھی ترقی کا وقت آتا ہے تو کبھی تنزل کا، کبھی خوشی پہنچ جاتی ہے تو کبھی غم، کبھی اولاد پیدا ہو تی ہے کبھی مر جاتی ہے، کبھی بیمار ہو جاتا ہے کبھی تندرست ہو جاتا ہے، کبھی دشمن کو مغلوب کر لیتا ہے اور کبھی دشمن کے عارضی طور پر جیتنے کا موقعہ آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ کا بھی ایک الہام ہے کہ ع ’’دشمن کا بھی ایک وار نکلا‘‘ (تذکرہ ایڈیشن چہارم۔صفحہ۵۲۴) تو دشمن کے وار بھی نکل آتے ہیں۔لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیںکوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو جیسے قرآن کریم میںہی کئی جگہ نقشہ کھینچا گیا ہے وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ ہائے مارے گئے، ہائے مارے گئے۔اس کے مقابل میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کو ترقیات ملتی ہیں تو وہ تکبر میںمبتلا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ (القصص : ۷۹) ہمیںجو کچھ ملا ہے اپنے زور بازو سے ملا ہے، ہمارے اندر قابلیتیں ہی ایسی تھیں کہ ہمیں یہ ترقیات حاصل ہوتیں، ہم نے یوں کیا ہم نے ووں کیا اور پھر ہمیںیہ اعزاز حاصل ہوا۔گویا جب ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات حاصل ہوتی ہیں یا ترقیات سے ان کو حصہ ملتا ہے ان میںتکبر پیدا ہو جاتا ہے اور جب مشکلات آتی ہیں تو اس وقت بالکل مایوس ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جہاں دشمن ایسا ہے کہ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے رَبِّيْۤ اَهَانَنِ(الفجر:۱۷) میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا اور خوشی پہنچتی ہے تو کہتا ہے رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ (الفجر:۱۶)۔ہاں جی ہم توہیں ہی ایسے کہ خدا ہماری عزت کرتا۔ایسے لوگوں کے بالمقابل اے محمد رسول اللہ تیری یہ حالت نہیں بلکہ وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔ہم تیری یہ دونوں حالتیں دشمنوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔تیرا نفس کامل اتنا اعلیٰ درجے کا ہے کہ تیرا سلوک اپنے رب سے ہمیشہ اس قسم کا ہو گا کہ ہر مایوسی اور تکلیف کے وقت خدا تجھے بھولے گا نہیں بلکہ یاد رہے گا۔مایوسی کبھی تیرے قریب بھی نہیںآئے گی اور خوشی کے وقت کبھی تکبر تیرے پاس بھی نہیںپھٹکے گا۔جب تجھ پر انعامات نازل ہوں گے تُو یہ نہیں کہے گا کہ میں نے یہ انعام بزورِ بازو حاصل کیا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کو ناراض کرلے گا