تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 110
سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑ ا کر دیں اور پھر کہیں کہ میں کوئی تبدیلی کروں تب بھی میںکوئی تبدیلی نہیںکر سکتا۔اے چچا ! اب اس کا ایک ہی علاج ہے اگر آپ کو آپ کی قوم میری خاطر چھوڑتی ہے تو پھر آپ مجھے چھوڑ دیںاور اپنی قوم سے مل جائیں۔(السیرۃ لابن ہشام مباداۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قومہ) دیکھو یہ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کا ایک وقت تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا۔طاقت آپ کے پاس نہیںتھی بلکہ ابو طالب کے پاس تھی مگر جس کے پاس طاقت تھی وہ گھبرا جاتاہے اور جس کے پاس طاقت نہیںتھی وہ کہتا ہے کہ جب باقیوں نے مجھے چھوڑا ہے تو آپ بھی مجھے چھوڑ دیںمیںاپنے عقائد میںکوئی تبدیلی نہیںکر سکتا۔یہ ایک رات تھی تاریک اور بھیانک رات۔جس میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں (سوائے ان کے جو اللہ تعالیٰ سے مویّد ہوں ) جو مقاومت کی روح اپنے اندر قائم رکھ سکیں لیکن اس تاریک رات میںبھی آپ نے ثابت کر دیا کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔آپ نے کوئی فعل ایسا نہ کیا جس پر خدا تعالیٰ بندہ کو چھوڑ دیا کرتا ہے آپ نے کوئی فعل ایسا نہ کیا جس پر خدا تعالیٰ خفا ہو جایا کرتا ہے بلکہ آپ نے وہ کچھ کیا جس پر خدا تعالیٰ اور بھی قریب ہو جاتا ہے، جس پر وہ اور بھی خوش ہو جاتا ہے۔کیاتم سمجھ نہیں سکتے کہ جب عرش پر خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ اے چچا آپ بھی مجھے چھوڑ دیں میں خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑ سکتا تو خدا تعالیٰ ایک عاشق کی طرح آپ کی طرف یہ کہتے ہوئے نہ جھکا ہوگا کہ دنیا تجھے چھوڑ دے پر میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔اللہ تعالیٰ غیر مادی چیز ہے اور اس کا تعلق اپنے بندوں سے روحانی ہوتا ہے جسمانی نہیں۔لیکن تمثیلی طور پر اپنے ذہن میں نقشہ جمانے کے لئے اگر تم فرض کر لو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت مادی محبت ہوتی یا اس کی نفرت مادی نفرت ہوتی تو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو یہ جواب دیا تھا کہ چچا اگر یہی بات ہے تو پھر آپ مجھے بے شک چھوڑ دیں اس وقت اگر خدا تعالیٰ دو گز پر کھڑا ہوگا تو یقینا اس فقرہ کے بعد وہ آپ کے پاس آکھڑا ہوا ہو گا اور اگر خدا تعالیٰ کی خوشنودی پہلے آپ کو دس نمبر کی حاصل تھی تو اس واقعہ کے بعد وہ بیس نمبر تک پہنچ گئی ہو گی۔پس اللہ فرماتا ہے وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔اے محمد رسول اللہ ! ہر رات جو تیری زندگی میںآئے گی، ہر رات جو تجھ پر گزرے گی وہ اس بات کو ثابت کرنے والی ہو گی کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔کہ نہ تو تیرے خدا نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے بلکہ وہ تجھ سے ہر گھڑی زیادہ قریب ہوتا جائے گا۔غارثور میںابو بکر جیسا بہادر آدمی گھبراجاتا ہے۔اپنے لئے نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے۔مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ جس کے لئے کوئی آفت نہیں تھی جو اگر پکڑا بھی جاتا تو لوگ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر