تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 105
جو پیشگوئی کی گئی تھی کہ رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا آج پوری ہو گئی ہے۔اس آیت میںبھی اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ کو پہلے رکھا گیا ہے جس میںمکہ میں داخل ہونے کی خبر دی گئی تھی او ر اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ کو بعد میں بیان کیا گیا ہے جس میں ہجرت کی پیشگوئی تھی حالانکہ ہجرت پہلے ہوئی تھی اور فتح مکہ بعد میں۔اس کی وجہ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں یہ ہے کہ الٰہی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے بات کرتے ہوئے خوشی کی خبر پہلے سناتا ہے اور تکلیف کا ذکر بعد میں کرتا ہے تا کہ خوشی کی خبر رنج کی کلفت کو کم کرنے کا موجب بن جائے۔اس طرح دونوں مطلب پورے ہو جاتے ہیں غم کی خبر بھی سنا دی جاتی ہے اور خوشی کی خبر بھی سنا دی جاتی ہے مگر چونکہ پہلے خوشی کی خبر آجاتی ہے اس لئے تکلیف کا احساس نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔دنیا میں بھی ہوشیار پیغامبر کا یہی طریق ہوتا ہے جب کسی کا کوئی رشتہ دار بیمار ہو اور دوسرا شخص پوچھے کہ سنائو میرے فلاں رشتہ دار کا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے الحمد للہ وہ اب اچھے ہیں پچھلے دنوں شدید بیمار ہو گئے تھے اس طرح وہ خوشی کی خبر بھی سنا دیتا ہے اور یہ بھی بتا دیتا ہے کہ درمیان میںبعض ایسے اوقات بھی آگئے تھے جبکہ ڈاکٹر ان کی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے۔مگر بجائے یہ کہنے کے کہ ان کی حالت نہایت نازک ہو گئی تھی وہ پہلے یہ فقرہ کہتا ہے کہ الحمد للہ وہ اب اچھے ہیں اس کے بعد وہ غم کی خبر سناتا ہے یہی طریق ہر اچھے پیغامبر کا ہوتا ہے کہ وہ بعد کے اچھے انجام کو پہلے بتا دیتا ہے اور تکلیف کا بعد میںذکر کرتا ہے۔لیکن اس کے بالکل الٹ بعض لوگوں کو ایسا بھی دیکھا جاتاہے کہ وہ اپنی حماقت کی وجہ سے خطرہ کی بات کو پہلے بیان کریںگے اور خوشی کی خبر کو دبا کر بیٹھ جائیں گے اور ان سے پوچھا جائے کہ بتائو خیریت ہے تو وہ یہ نہیںکہیں گے کہ خیریت ہے بلکہ پہلے جب تک گھنٹہ بھر اپنا دکھڑا نہیںرو لیںگے انہیں چین نہیں آئے گا۔اسی طرح جب کسی کے سپرد کوئی ضروری کام کیا جائے اور وہ کام کر کے واپس آئے تو آتے ہی ایک لمبی کہانی سنانی شروع کر دے گا اور بعد میں کہے گا کہ الحمد للہ کام ہو گیا۔اس سے یہ نہیں ہو سکتا کہ آتے ہی کہہ دے الحمدللہ کام ہو گیا بلکہ پہلے اپنی مشکلات کا رونا رونے لگتا ہے اور گھنٹہ بھر کے بعد کہتا ہے الحمدللہ میںکامیاب ہوگیا۔تو بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں بات کرنے کا اس وقت تک مزا نہیںآتا جب تک وہ دوسرے کو اچھی طرح ڈر ا نہ لیںمگر الٰہی طریق یہ ہے کہ وہ پہلے خوشی کی خبر سناتا ہے اور کہتا ہے ہم تمہیںبتا دیتے ہیں کہ نتیجہ اچھا ہو گا اس کے بعد وہ بتا تا ہے کہ درمیان میںکچھ تکلیفیں بھی آئیں گی کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جب انجام بخیر ہے تو بات کو شروع کرتے ہی بندے کے دل کو دکھ دینا شروع کر دے۔یہی طریق رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ میںاختیار کیا گیا ہے کہ فتح مکہ کی خبر کو پہلے رکھا ہے اور ہجرت کا ذکر بعد میں کیا ہے۔جب مسلمانوں کو