تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 106
پتہ لگ گیا کہ آخر ہم نے مکہ فتح کر کے اسی جگہ آنا ہے تو ان کو تسلی ہو گئی کہ درمیان میںاگر ہجرت بھی کرنی پڑی تو کیا ہوا۔اسی بناء پر یہاں بھی وَالضُّحٰى کو پہلے اور وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کو بعد میںرکھا گیا ہے۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى میں ہجرت اور فتح مکہ کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو۲ محل اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔تیرے رب نے تجھے نہیں چھوڑا اور وہ تجھ سے ناراض نہیں ہوا اور چونکہ وہ غرض جو وَ الضُّحٰى کو پہلے رکھنے کی تھی پوری ہو گئی تھی یعنی غرض یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے صدمہ نہ پہنچے کہ تجھے ہجرت کرنی پڑے گی۔اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے رات کا ذکر پیچھے کر دیا اور دن کا ذکر پہلے رکھا مگر چونکہ اس آیت سے غرض پوری ہوگئی اس لئے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ترتیب اصلی کو قائم کر دیا۔چنانچہ مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ جواب ہے وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کا اور مَا قَلٰى جواب ہے وَ الضُّحٰى کا۔چونکہ غرض پوری ہوچکی تھی اور اب اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ واقعاتی ترتیب کو بدلا جاتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیات کی ترتیب کو الٹ دیا اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى میں بیان کردہ واقعہ ہو گا اور مکہ تجھے چھوڑنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ اس وقت تجھے چھوڑے گا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ غارِ ثور میںجب حضرت ابو بکر گھبرائے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ دشمن اتنا قریب پہنچ گیا ہے کہ اگر وہ ذرا اپنے سر کو جھکائے تو ہمیںاس غار میں سے دیکھ سکتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا غم مت کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔(مجمع الزوائد کتاب المغازی و السیر باب الھجرۃ الی المدینۃ)۔اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کب فرمایا تھا کہ میں ہجرت کے گھڑیوں میں تیرے ساتھ ہوں گا تو اس کا جواب یہ ہے وہ الٰہی وعدہ اسی سورۃ میں تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى میں بیان شدہ واقعہ کا ظہور ہوگا تو تیرا رب تجھے نہیںچھوڑے گا۔چنانچہ اسی وعدہ کی بناء پر آپ نے نہایت دلیری سے فرمایا لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔ابو بکر ! کیوں گھبرا رہے ہو خدا ہمارے ساتھ ہے وہ پہلے سے یہ وعدہ سورۃ الضحیٰ میں کر چکا ہے پس ڈرنے کی بات نہیں۔آخر یہ خدا تعالیٰ کی معیت ہی تھی کہ دونوں طرف قطار باندھے دشمن کھڑا ہے آپ کے مکان کا سنگین پہرہ دے رہا ہے اور آپ نہایت اطمینان کے ساتھ اس سے درمیان سے گزر جاتے ہیں اور وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہیں بلکہ کوئی اور جا رہا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ تاریخ میںیہ ذکر آتا ہے (گو حوالہ یاد نہیں رہا) کہ بعد میںایک پہرے دار نے کہا کہ میں نے خود آپ کو مکان میںسے نکلتے اور وہاںسے گزرتے دیکھا مگر میں نے یہ نہیں سمجھا کہ آپ جا رہے ہیں بلکہ خیال کیا کہ کوئی اور جا رہا ہے۔بہرحال یہ خد اتعالیٰ کی معیت ہی تھی کہ آپ دشمنوں کی نظروں کے سامنے نکل گئے اور وہ آپ کو پکڑ نہ سکا۔پھر