تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 104

ہے لیکن بعض کے نزدیک زوال کے قریب جا کر ضُـحٰی کا وقت نہیں رہتا بلکہ وہ ضُـحَاءٌ کہلاتا ہے۔(اقرب) سَـجٰی سَـجٰی کے معنے ہیں جب اندھیرا ترقی کرتے کرتے اپنے کمال کو پہنچ جائے۔چنانچہ مفردات میں لکھا ہے وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى اَیْ سَکَنَ(مفردات)۔جب رات ٹھہر جاتی ہے اور اس کا اندھیرا اور نہیں بڑھتا جتنا اس نے بڑھنا ہوتا ہے وہ بڑھ جاتا ہے۔وَدَّعَكَ وَدَّعَكَ : وَدَّعَ الرَّجُلَ کے معنے ہوتے ہیں ھَجَرَہٗ کسی کوچھوڑ دیا۔(اقرب) قَلٰى قَلٰى : قَلَا فُلَانٌ (قِلًی وَ قَلَاءً) کے معنے ہوتے ہیں اَبْغَضَہٗ وَ کَرِھَہٗ غَایَۃَ الْکَرَاھَۃِ فَتَـرَکَہٗ۔کسی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کو انتہائی طور پر ناپسند کیا اور ناپسندیدگی کی بناء پر چھوڑدیا۔جب قَلَا الْاِبِلَ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں طَرَدَھَا وَ سَاقَھَا۔اس نے اونٹ کو چلایا اور دھتکارا یعنی اسے مار کے آگے ہنکایا۔قَلَا الْاِبِلَ میںقلا واوی ہے یعنی آخر میں اصل واو ہے اور قَلٰى فُلَانٌ میں آخر میںیاء ہے۔(اقرب) تفسیر۔آنحضرتؐکی زندگی میں ایک رات اور ایک ضُحٰی کا خاص واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں ایک ضُـحٰی اور ایک لیل خصوصیت رکھتی ہیں۔ضُـحٰی وہ دوپہر ہے جبکہ آپ مکہ کو فتح کر کے اس میںداخل ہوئے تھے اور وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى سے مرا د وہ رات ہے جب کہ آپ نے مکہ کو چھوڑا تھا گویا وَ الضُّحٰى کے معنے ہوئے ایک خصوصیت رکھنے والا دن۔اور وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے معنے ہوئے ایک خصوصیت رکھنے والی رات۔اور درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی کے بڑے واقعات اگر کوئی خلاصۃ ً پوچھے تو یہی دو ہیں۔دشمنوں نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا پھر خدا تعالیٰ نے اپنے خاص نشانات سے دشمنوں کو تباہ کر کے آپ کو ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میںداخل فرمایا۔انہی دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تیری سچائی کی شہادت کے طورپر یا اگلے مضمون کی سچائی کو واضح کرنے کے لئے ایک ضُـحٰی کو پیش کرتے ہیں اور ایک ایسی رات کو پیش کرتے ہیں جو تاریکی سے اپنے اردگرد کی تمام چیزوں کو ڈھانپ لے گی۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہاں ضُـحٰی پہلے ہے اور رات پیچھے حالانکہ فتح مکہ بعد میں ہوئی ہے اور ہجرت پہلی ہوئی ہے۔اس کے متعلق یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میںآتا ہے رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا (بنی اسـرآءیل:۸۱) ان آیتوںمیں صاف پیشگوئی فتح مکہ کی ہے کیونکہ فتح مکہ کے موقعہ پر ہی آپ بت توڑتے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (جو اوپر کی آیات کے بعد آتا ہے) گویا آپ نے اپنے عمل سے واضح فرما دیا کہ وہ