تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 101

اپنے اندر رکھتی تھیںاور آپ کو یہ کہنے آئی تھیںکہ ایک بہت بڑا کام تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے اس کے لئے تیار ہو جائو۔یہ کام کس رنگ میںہونا تھا اور کیا کیا محنتیںآپ کو اس غرض کے لئے کرنی تھیں۔اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دماغ کو تیار ہونا چاہیے تھا۔یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ادھر الہام ہوتا اور ادھر کہہ دیا جاتا کہ جائو اور کام کرو۔درمیان میں بہرحال ایک وقفہ کی ضرورت تھی۔چنانچہ گذشتہ انبیاء کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک رہا ہے کہ پہلے ان کو الہام ہوا او ر پھر ایک وقفہ پیدا کیا گیا تا کہ اس عرصہ میںان کا دماغ آئندہ کے کام کے متعلق پوری طرح تیار ہو جائے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھو فلسطین سے جاتے ہوئے آپ کو الہام ہو ا کہ يٰمُوْسٰى۔اِنِّيْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (طٰہٰ:۱۲،۱۳ ) اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں پس اپنی جوتیاں اتار دے کیونکہ تو مقدس وادی طویٰ میںہے۔مگر اس کے بعد ایک وقفہ ہوا اور مصر پہنچ کر دوبارہ وحی کا سلسلہ شروع ہوا۔فلسطین سے اس زمانہ میںمصر پہنچنا کوئی معمولی بات نہیں تھی کم سے کم دو مہینے صرف ہو جاتے تھے بلکہ بعض دفعہ چھ چھ ماہ بھی صرف ہو جاتے کیونکہ مخدوش راستوں کی وجہ سے قافلوں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا اور بعض دفعہ تو قافلہ جلد مل جاتا اور بعض دفعہ چھ چھ ماہ تک انتظار کرنا پڑتا کہ کب قافلہ تیار ہو اور اس سفر کو طے کیا جائے۔یہ تیاری کا وقت تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملا کہ چند ماہ پہلے ابتدائی وحی نازل ہوئی پھر ایک وقفہ پیدا کیاگیا تاکہ اس عرصہ میںآپ اپنے کام کی اہمیت کے مطابق تیاری کر لیں اور جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ تیاری مکمل ہو چکی ہے تو اس کے بعد تورات کا نزول ہوا۔ایسا ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے کچھ وقفہ پیدا کر دیا۔آپ اس وقفہ میں ان تمام باتوں کو سوچتے رہے اور غور کرتے رہے کہ الٰہی منشاء کیا ہے۔جب دنیا کے حالات پر آپ نے غور کیا اور سمجھ لیا کہ یہ یہ خرابیاں ہیں جن کو میں نے دور کرنا ہے۔ورقہ بن نوفل نے آپ کی توجہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی کی طرف پھیر دیا اور قوم کے حالات کو بھی آپ نے اچھی طرح دیکھ لیا اور اس کی اصلاح کے لئے کمر باندھ لی تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی ہمت بندھانے کے لئے کچھ بشارتیںنازل ہوئیں۔اسی طرح دشمنوںکے متعلق کچھ انذار کی خبریں نازل ہونی شروع ہو گئیں۔اس دوران میں دشمنوں نے جو جو باتیں کیں لوگوں نے ان تمام باتوں کو اس سورۃ پر چسپاں کر دیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ سورۃ ان واقعات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے حالانکہ اس سورۃ کا ان واقعات کے ساتھ کوئی جوڑہی نہیں۔ایک عورت نے کوئی بات کہہ دی تواس کا وَالضُّحٰى۔وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ساتھ کیا جوڑ ہوا؟ اگر عورت یہ بات نہ کہتی تو کیا خدا تعالیٰ آپ کو تسلی نہ دیتا؟ ہم مان لیتے ہیں کہ مکہ والوں نے یہ باتیں کہیں، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ آپ کی کسی چچیری بہن نے