تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 100

ہے اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ قریب زمانہ میں اس سے کوئی ملتا جلتا واقعہ لوگوں کو نظر آتا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ یہی واقعہ اس آیت کے نازل ہونے کا اصل سبب ہے چنانچہ وہ اس آیت کو اپنی سمجھ کے مطابق اس واقعہ پر چسپاں کر دیتے ہیں اور اگر ایک سے زیادہ ملتے جلتے واقعات ہوں تو مختلف لوگوں کی قیاس آرائیوں کی وجہ سے اس قسم کی روایات میں بہت کچھ اختلاف واقع ہو جاتا ہے جیسا کہ اسی سورۃ کے شانِ نزول کے متعلق تین مختلف واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔کوئی ہمسائی عورت کا واقعہ پیش کرتا ہے۔کوئی کفار کے عام خیالات کو اس سورۃ کے نزول کا اصل باعث قرار دیتا ہے اور کوئی آپ کی ایک چچیری بہن کا واقعہ اس کا موجب قراردیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ابتدائی سورۃ ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ابتدائی ایام میںکچھ دنوں کے لئے وحی رکی بھی ہے کیونکہ منشاءِ الٰہی یہ تھا کہ آپ پر نزول وحی کی وجہ سے جو ہیبت طاری ہوئی ہے اس پر کچھ وقت گزر جائے اور وحی آپ میں سموئی جائے۔پہلے پہلے جب ایک واقعہ ہوتا ہے تو انسان اس کی اہمیت کو فوراً نہیں سمجھ جاتا بلکہ آہستہ آہستہ اس کے قلب پر حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایک موقعہ پر مدینہ والوں نے کہا کہ یا رسول اللہ وہ وقت اور تھا جب ہم نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ آور ہوا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑنا پڑا تو ہم مدد کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔یا رسول اللہ وہ وقت ایسا تھا جب ہمیں آپ کی حقیقت کا علم نہیںتھا اور اسی وجہ سے ایسا معاہدہ کیا گیا مگر اب ہم پر آپ کی حقیقت کھل چکی ہے، آپ کی شان اور عظمت کا ہمیں علم ہو چکا ہے اس لئے اب کسی معاہدے کا سوال نہیں۔ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیںگے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔تو اہم واقعات کو فوراً سمجھنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ اُن کی حقیقت کھلتی ہے اور انسان کو پتہ لگتا ہے کہ الٰہی منشا ء کیا ہے۔فترۃ وحی کی وجہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے وحی نازل کی اور پھر ایک وقفہ ڈال دیا۔اس عرصہ میں آپ نے وحی پر تدبر کیا، اپنے کام کی اہمیت کو سمجھا اور اس طرح اپنے ایمان اور اپنے عزم اور اپنے استقلال میں پہلے سے بہت زیادہ اضافہ کر لیا۔جب خد اتعالیٰ نے دیکھا کہ اب فزع کا کوئی سوال نہیںرہا، آپ کام کے لئے تیار ہو چکے ہیں اور وحی والہام کی اہمیت آپ کے دل میںداخل ہو چکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیغام پر پیغام دینے شروع کر دیئے۔غرض پیغام اور پیغام کی تیاری میں کچھ وقفہ چاہیے وہ وقفہ اس طرح ہوا کہ پہلے اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ والی سورۃ نازل ہوئی۔پھر سورۃ المدثر وغیرہ نازل ہوئیں۔یہ سورتیں آپ کی طرف اللہ تعالیٰ کا پیغام لائی تھیں، آئندہ کے متعلق کئی قسم کی بشارات