تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 102

کوئی بات کہی اور اس وقت کہی جب اس سورۃ کے کچھ حصوں سے ان باتوں کا توارد ہو گیا مگر پھر بھی یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سورۃ انہی واقعات کی وجہ سے نازل ہوئی ہے اگر یہ واقعات نہ ہوتے تو یہ سورۃ نازل نہ ہوتی۔درحقیقت اکثر محل قرآن کریم کی آیات کے نزول کے جو لوگوں کی طرف سے بتائے جاتے ہیں حقیقتاً ایسے نہیں۔اسی لئے ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے جیسے اس جگہ ہوا کہ کوئی کہتا ہے ایک ہمسائی عورت کی ایک بے معنی بات کی وجہ سے یہ سورۃ نازل ہوئی۔کوئی کہتا ہے کفار میں چونکہ فترۃ الوحی پر عام چرچا ہو گیا تھا اس لئے یہ سورۃ نازل ہوئی۔کوئی کہتا ہے اس سور ۃ کے نزول کا محرک آپ کی چچیری بہن کا واقعہ ہے۔اسی طرح اور بھی کئی آیات ہیں جن کے متعلق بعض صحابی کہتے ہیں کہ یہ میرے متعلق نازل ہوئی اور بعض کہتے ہیں کہ یہ میرے متعلق نازل ہوئی جیسے ’’اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز ‘‘ کے الہام پر بہت سے احمدیوں کو غلط فہمی ہو گئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ الہام ہمارے متعلق ہے۔سر میور کے نزدیک یہ سورۃ سورۃ البلد کے بعد کی نازل شدہ ہے لیکن نولڈکے کے نزدیک سورۃ الانشراح کے بعد نازل ہوئی ہے۔میرے نزدیک یہ سورۃ اپنے مضمون سے ظاہر کرتی ہے کہ بہت ہی ابتدائی سورتوں میں سے ہے کیونکہ اس میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا ہے فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ۔وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ یعنی یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو رد نہ کرو۔لیکن پہلی سورتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ مسلمان ایسا ہی کرتے ہیں۔پس اگر روایات کی تائید میں یہ بات پیش کی جائے کہ اس میںچونکہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسا کرو اور عمل ہمیشہ حکم کے بعد ہوتا ہے اس لئے یہ اندرونی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ سورۃ پہلے نازل ہوئی ہے اور دوسری سورتیں جن میں مسلمانوں کے عمل کا ذکر ہے وہ اس کے بعد نازل ہوئی ہیں تو یہ بات قرین قیاس سمجھی جا سکتی ہے لیکن یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ابتدائی حکم نہیں دیابلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس سورۃ کے شروع میںجن انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے یا جن انعامات کے ظہور کی خبر دی گئی ہے جب وہ انعامات نازل ہو جائیںتو ان کے شکریہ کے طورپر جو عمل کرنے کے لئے کہا جائے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت نازل ہوا ہے جیسے حضرت زکریا علیہ السلام کو کہا گیا کہ تو نے روزے رکھنے ہیں (مریم رکوع۱) اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ روزے اسی وقت فرض ہوئے تھے اس سے پہلے نہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ فرض تو پہلے سے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اب بھی تم روزے رکھو۔اس لئے ضروری نہیں کہ ہم قطعی طورپر ان احکام سے یہ نتیجہ نکال سکیں کہ چونکہ ان میںحکم ہے اور حکم پہلے ہونا چاہیے اور عمل بعد میں۔اس لئے یہ سورۃ بہت پہلے نازل ہوئی ہے بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس سورۃ میںیہ حکم دیا گیا ہے کہ گو یہ کام پہلے بھی تم کرتے ہو مگر جب یہ