تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 99
مَا اَریٰ صَاحِبَکَ اِلَّا قَدْ قَلَاکَ کہ میرا تو یہ خیال ہے کہ تمہارا صاحب تم سے خفا ہو گیا ہے اس نے صاحب کا لفظ اس لئے بولا کہ جو لوگ خدا کو اس کلام کا نازل کرنے والا قرار دیتے ہیں وہ اس سے خدا مراد لے لیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شیطان آپ پر یہ کلام نازل کیا کرتا ہے وہ اس سے شیطان مراد لے لیں۔بہرحال اس نے کہا جو بھی کلام نازل کیا کرتاتھا خواہ وہ خدا تھا یا شیطان معلوم ہوتا ہے وہ اب تم سے خفا ہو گیا ہے اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔یہ مختلف روایات ہیں جو اس سورۃ کے نزول کے متعلق بیان کی جاتی ہیں۔ایک میں آتا ہے کہ ایک ہمسائی نے آکر کہا۔ایک میںآتا ہے کہ لوگوں میں یہ چرچا ہوا اور ایک میںآتا ہے کہ آپ کی چچیر ی بہن نے کہا۔اب دو ہی صورتیںہیں یا تو ہم یہ کہیںکہ یہ ساری روایتیں غلط ہیں اور فیصلہ کر دیں کہ ان روایات کا سورۃ کے نزول سے کوئی بھی تعلق نہیں اور یا پھر یہ طریق اختیار کریں جو میرے نزدیک صحیح ہے کہ ایک وقت میں ایک واقعہ پر مختلف لوگ چہ میگوئیاں کرتے ہیں اور ان چہ میگوئیوں کو اس واقعہ سے کسی ملتی جلتی عبارت کے ساتھ چسپاںکر لیا جاتا ہے مثلاً حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک دفعہ الہام ہوا۔A WORD AND TWO GIRLSـ ’’اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز‘‘ (تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۵۰۵) حافظ احمد اللہ صاحب ان دنوں قادیان آرہے تھے راستہ میں انہوں نے کسی دوست سے پوچھا کہ کوئی تازہ وحی سنائو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئی ہو اس نے کہا ابھی ایک الہام ہوا ہے کہ ’’اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز‘‘۔حافظ احمد اللہ صاحب نے جھٹ کا غذ لیا اور حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لکھا مبارک ہو الہام پورا ہو گیا میںاکیلا نہیں آیا بلکہ میرے ساتھ دو لڑکیاں بھی آرہی تھیں اور یہ الہام اسی واقعہ پر چسپاں ہوتا ہے۔پھر میں نے بعض اور لوگوں کو دیکھا کہ ان میںسے جس کی بھی دو بیٹیاں اور ایک لڑکا تھا اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ الہام میرے متعلق ہے۔میرا خیال ہے کہ ہماری جماعت میں دو درجن کے قریب ایسے لوگ تھے جنہوں نے مختلف پیرایوں میںیہ الہام اپنے اوپر چسپاں کیا۔تو بعض دفعہ ایک ملتی جلتی چیز ہوتی ہے جسے انسان اپنے خیال میں کسی الہام پر چسپاں کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے اس الہام کے شانِ نزول کا پتہ لگا لیا حالانکہ الہامات کے معانی ہمیشہ ان کی ترتیب سے سمجھے جاتے ہیں اگر اس ترتیب سے وہ علیحدہ کر لئے جائیں تو ہر ٹکڑہ کے کوئی نہ کوئی معنے ہو جائیں گے مثلاً کوئی شخص کہتا ہے۔ادھر آئو۔اب یہ الفاظ ایسے ہیں جو ہر شخص استعمال کر سکتا ہے مگر موقعہ کے لحا ظ سے پتہ لگ جائے گا کہ اس کا مخاطب کون شخص ہے۔فرض کرو زید سامنے ہو اور اس وقت کوئی شخص آواز دے کہ ادھر آئو تو ہر شخص سمجھ جائے گا کہ اس سے مراد زید ہے کوئی اور شخص نہیں۔لیکن اگر اس فقرہ کو موقعہ سے الگ کر لو تو دنیا کے ہر شخص پر یہ چسپاں ہو جائے گا۔اسی طرح یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ آیت فلاں موقعہ پر نازل ہوئی