تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 66

سُوکتوں سمیت جتنے سُوکت اتھرووید میں ملائے جا رہے ہیں وہ کہاں سے آئے؟ تو کوئی جواب نہیں ملتا۔جہالت کا اتنا دور دورہ ہے کہ آخر میں ’’اتھرووید سنگہیتہ سما پتا ‘‘لکھا ہوا دیکھ کر ہی یہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ بس جو کچھ اس خاتمہ تک چھپا ہوا یا لکھا ہوا ہے وہ سب اتھروسنگہیتہ ہے۔یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ چھاپنے والا یا لکھنے والا کون اور کتنی قابلیت رکھتا ہے۔‘‘ (وید سروسوْ صفحہ ۹۷) پھر پنڈت مہیش چندر پرشاد بی۔اے تحریر فرماتے ہیں۔’’واجسنئی شُکل یجروید سنگہیتہ بالکل نئی طرز پر ہے۔اس میں وید اور براہمن بھا گ الگ الگ پائے جاتے ہیں۔اس میں چالیس ادھیائے ہیں۔مگر لوگوں کا وشواش (یقین) ہے کہ ان میں ۱۸ اصل ہیں باقی بعد میں ملائے گئے ہیں۔۔۔۔۔ادھیائے ۱ سے ۱۸ تک کا بھاگ تیئتری سنگہیتہ و کرشن یجروید کے ساتھ نظم و نثر میں مطابقت رکھتا ہے۔ان ۱۸ ادھیاؤں کے ہر ایک لفظ کی تشریح اس کے براہمن میں ملتی ہے۔مگر باقی ۱۷ ادھیاؤں کے صرف تھوڑے تھوڑے منتروں پر ہی اس میں ٹپنی (نوٹ) پائی جاتی ہیں۔کاتیائن نے ادھیائے ۲۶ سے ۳۵ تک کو کِھل (ملاوٹ) کے نام سے لکھا ہے۔۔۔۔۔ادھیائے ۱۹ سے ۲۵ ان میں بھی یگیہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔یہ تئیتری سنگہیتہ سے نہیں ملتے۔۲۶ سے لے کر ۲۹ ادھیاؤں تک کچھ خاص طور پر انہی یگیوں کے متعلق منتروں کا ذکر ہے جن کے بارہ میں پہلے ادھیاؤں میں بیان ہے۔اور اس سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ضرور بعد میں ملا دیئے گئے ہیں۔‘‘ (سنسکرت ساہتیہ کا اتہاس جلد دوم صفحہ ۱۶۰) الغرض خود ہندو علماء نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وید اپنی شکل میں محفوظ نہیں بلکہ محرف و مبدل ہو چکے ہیں۔پارسی لوگ مسلمانوں سے عداوت رکھنے کی وجہ سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان کی مذہبی کتب کو جلا دیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ان کے پاس زرتشتؑ کی الہامی کتاب کے صرف چند باب رہ گئے ہیں باقی کتاب سب ضائع ہو گئی۔ہم تو اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمانوں نے ان کی مذہبی کتب کو جلایا ہے بلکہ خود پارسی کتب سے ثابت ہے کہ سکندر کے حملہ کے وقت ژنداوستا جلا دی گئی تھیں۔لیکن اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے تب بھی اس سے کم از کم اتنی بات تو ثابت ہو گئی کہ اب ان کے پاس زرتشت کا کلام مکمل صورت میں محفوظ نہیں جو کچھ ہے وہ اصل کتاب کا بہت تھوڑا سا حصہ ہے۔غرض آج دنیا کے پردہ پر کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہو کہ جس شکل و صورت